Al-Risala · January 1981 · page 30

جنت المعلیٰ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

اولاً ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی سے، اور ان کے مرنے کے بعد عتیق بن عائذ مخزومی سے۔ یہ دونوں کچھ کچھ عرصہ کے بعد انتقال کر گئے اور حضرت خدیجہ کو دونوں کی دولت وراثت میں ملی۔ اس طرح حضرت خدیجہ بیوہ ہونے کے بعد مکہ کی سب سے زیادہ مال دار خاتون بن گئیں۔ قریش کے شرفاء اور دولت مند لوگ ان سے نکاح کی خواہش کرنے لگے۔ اسی درمیان میں ایک تجارتی تعلق کے ذیل میں ان کا تعارف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ آپ دنیوی دولت سے خالی تھے مگر حضرت خدیجہ آپ کے کردار اور آپ کی شرافت سے متاثر ہوئیں اور خود ہی آپ سے نکاح کا پیغام بھجوایا۔ چنانچہ دونوں کا نکاح ہو گیا۔ نکاح کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر ہم سال اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۲۵ سال تھی۔ جنت المعلیٰ میں حضرت خدیجہ کی قبر ہر آنے جانے والئے کو یاد دلاتی ہے کہ تم کو دولت کے مقابلہ میں کردار کو اہمیت دینا چاہئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبری ملی تو وہ فوراً آپ پر ایمان لائیں۔ اس مشن میں آپ کو سخت ترین مصیبتیں پیش آئیں۔ حضرت خدیجہ کی ساری دولت اس مشن کی راہ میں خرچ ہوگئی مگر انھوں نے کبھی آف نہ کیا۔ ہر سختی جو آپ پر پڑی اس کو سہنے میں وہ برابر کی شریک رہیں۔ وہ آپ کی صرف بیوی نہ تھیں بلکہ پورے معنوں میں آپ کی زندگی کی ساتھی تھیں۔ حضرت ابو ہریرہ رض بتاتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر کسی مقام پر تھے کہ حضرت جبریل آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ خدیجہ آپ کے لئے کھانا لے ہوئے آ رہی ہیں۔ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی طرف سے اور پھر میری طرف سے ان کو سلام کہیے اور ان کو جنت کے ایک محل کی بشارت دے دیجئے جو موتیوں کا بنا ہوا ہوگا۔ اس محل میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف (بخاری و مسلم) حضرت خدیجہ کا انتقال نبوت کے دسویں سال (۶۲۰ء) میں ہوا۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار فرمایا: خدیجہ مجھ پر ایمان لائیں جب کہ لوگوں نے میرا انکار کر دیا۔ انھوں نے میری تصدیق کی جب کہ لوگوں نے مجھ کو جھٹلایا۔ انھوں نے اپنے مال میں مجھ کو شریک کیا جب کہ لوگوں نے مجھ کو مال سے روکا۔ حضرت خدیجہ کی قبر تاریخ کی انتہائی معیاری خاتون کی یاد دلاتی ہے، ایسی خاتون جو اپنے رفیق زندگی کے لئے کبھی مسئلہ نہیں بنی۔ جس نے تکلیف کے دنوں میں بھی اپنے رفیق زندگی کا اسی طرح ساتھ دیا جس طرح آرام کے دنوں میں۔ ۵ - جنت المعلیٰ کے باسیوں میں حضرت عبداللہ بن زبیر بھی ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ اپنے والد کے بعد ایمان لائے۔ رسول اللہ کے زمانہ میں ان کا شمار نو عمر صحابہ میں ہوتا تھا۔ خدا ترس ہونے کے ساتھ وہ ایک بہادر اور مدبر انسان تھے۔ وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رض نے مجھ کو نصیحت نامہ بھیجا اور اس میں لکھا: خدا سے ڈرنے والا وہ ہے جس نے بلاؤں پر صبر کیا اور اللہ کے فیصلہ پر راضی رہا اور نعمتوں کا شکر ادا کیا اور قرآن کے حکم کے آگے جھک گیا (من صبر علی البلاء ورضی بالقضاء وشکر النعماء وذل لحکم القرآن) خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب رض کے بعد خلافت کا بار سنبھالنے کے لیے پورے عالم اسلام میں جو چند شخصیتیں موزوں ترین تھیں ان میں سے ایک حضرت عبداللہ بن زبیر تھے۔ وہ بہادری اور دانش مندی اور تقویٰ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page