مشورہ پر اصرار نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹
قوم فرعون کے سرداروں نے کہا، کیا تو موسی اور اس کی قوم کو چھوڑ دے گا کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اور تجھ کو اور تیرے معبودوں کو چھوڑیں۔ فرعون نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے ۔ اور ہم ان پر پوری طرح قادر ہیں۔ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری کامیابی اللہ سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ موسیٰ کی قوم نے کہا، ہم تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی ۔ موسیٰ نے کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا مالک بنا دے، پھر دیکھے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو ۱۲۷ - ۱۲۹ بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خدا کی طرف رجوع کرو۔ پھر پیغمبر نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کر رہا ہے وہ کیوں پیش کر رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگرچہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں اور بظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے گا۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتا ہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نایں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو دیئے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقیناً خدا ہی کے پاس ہو سکتی ہے۔ پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقتًا اس کے حق میں آزمائش ہوتا ہے اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقتور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اسی لئے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمہارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا۔ جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نہ اہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔ خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتا ہے وہ حقیقت میں آخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیونکہ دنیا میں یہ چیزیں بطور آزمائش ملتی ہیں اور آخرت میں وہ بطور انعام خدا کے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues