Al-Risala · July 1981 · page 20

مشورہ پر اصرار نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۰

اور ہم نے فرعون والوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تا ان کو نصیحت ہو۔ لیکن جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے کہ یہ ہمارے لئے ہے اور اگر ان پر کوئی آفت آتی تو اس کو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست بتاتے سنو، ان کی بدبختی تو اللہ کے پاس ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ اور انھوں نے موسیٰ سے کہا، ہم کو مسحور کرنے کے لئے تم خواہ کوئی بھی نشانی لاؤ ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں (۱۳۲۔ ۱۳۰)

کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتا ہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اگر کسی کو بر سر حق ظاہر کرنا ہو تو اس کا یہ سر حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتا ہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔

امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لئے بھی الفاظ پا لیتا ہے اور باطل کو حق کہنے کے لئے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کر سکتا ہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کر سکتا ہے کہ گویا کہ اس کو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے، حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انہیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دیدے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس لئے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے ۔ مگر الفاظ کے ذریعہ آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹارخ دے دیتا ہے اور اس کے اندر جو حق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتا ہے۔

" تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے " فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا ، اس پر حق کا حق ہونا کھلتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے ، نہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی لئے وہ اس کو اختیار بھی نہ کر سکے گا۔ اپنے حال پر نگین رہنا آدمی کو اپنے سے باہر کی چیزوں کے لئے بے خبر بنا دیتا ہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔

آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنی نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page