Al-Risala · July 1981 · page 33

تقویٰ ہر چیز کا بدل

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۳

تقویٰ ہر چیز کا بدل

قال علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ : من اراد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص چاہتا غنی بلا مال و هيبة بلا سلطان وعزا ہو کہ اس کو مال کے بغیر دولت مندی اور اقتدار کے بلا عشيرة فليتق الله فان الله يابى ان بغیر رعب اور قبیلہ کے بغیر قوت ملے تو وہ اللہ سے ڈرے۔ يذل الا من عصاه کیونکہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نافرمانوں کے سوا کسی کو ذلیل نہیں کرتا۔

طبیعیاتی دنیا کے لئے اللہ کا ایک اٹل قانون ہے جس کو قانونِ فطرت کہا جاتا ہے۔ جو شخص بھی اس قانون فطرت کی پابندی کرے گا وہ طبیعیات کی دنیا میں کامیاب رہے گا۔ اسی طرح انسانی دنیا میں کامیابی کے لئے بھی اللہ کا ایک قانون ہے ، اس قانون کا نام تقویٰ ہے۔ تقویٰ انسانی زندگی کی واحد یقینی شاہراہ ہے۔ جو شخص تقویٰ کی زندگی اختیار کرے وہ آخرت کی دنیا میں جنت کا مستحق بنتا ہے۔ نیز موجودہ دنیا میں بھی اللہ اس کو اپنی نصرت سے کامیاب کر دیتا ہے۔

تقویٰ کیا ہے ، اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا ۔ جو شخص اللہ سے ڈرے وہ حد درجہ قابلِ اعتماد انسان بن جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جو کہتا ہے وہی کرتا ہے ۔ وہ جو وعدہ کرتا ہے اس کو پورا کرتا ہے۔ کسی کا کوئی حق ہو تو وہ حد درجہ ذمہ داری کے ساتھ اس کو ادا کرتا ہے۔ جو شخص ماحول میں اس قسم کا اعتماد حاصل کر لے اس کو دوسروں کا ساز و سامان ملنے لگتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ دوسروں کے مال پر تجارت کرے۔ دوسروں کے سودے پر اپنی دکان سجائے۔ دوسروں کے وسائل پر اپنی تعمیر کرے۔ اعتماد سب سے بڑا سرمایہ ہے اور تقویٰ اس اعتماد کو کسی انسان میں کامل درجہ میں پیدا کرتا ہے۔

رعب کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آدمی کے اندر سے لالچ نکل جائے۔ تقویٰ کسی آدمی کے اندر سے حرص و لالچ کو بالکل نکال دیتا ہے۔ جو آدمی کسی سے ڈرتا نہ ہو ، کسی سے کوئی غرض نہ رکھتا ہو ، لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس کی رغبت سے اس کا دل خالی ہو گیا ہو تو اس کے بعد فطری طور پر اس میں خود اعتمادی آ جاتی ہے ، اور خود اعتمادی ایک ایسی تسخیری قوت ہے کہ جس کے اندر وہ پیدا ہو جائے اس سے لوگ مرعوب ہو کر رہ جاتے ہیں۔ حق پرست آدمی کا ایک نمائندہ خود اس کے حریف کے اندر موجود ہوتا ہے، اور یہ انسانی فطرت ہے جس کا یہ حال ہو جائے کہ وہ تمام تر مظلوم ہو اور دوسرا تمام تر ظالم ، وہ تمام تر انصاف پر ہو اور دوسرا تمام تر بے انصافی پر، وہ لوگوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرنے والا ہو اور لوگ اس کے معاملہ میں اللہ سے نڈر ہو جائیں تو ایسے شخص کی طرف لوگوں کے دل خود بخود کھنچ اٹھتے ہیں ، وہ اکیلا ہوتے ہوئے بھی اپنے لئے بہت سے مددگار پالینا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page