Al-Risala · July 1981 · page 36

جب بگاڑ آتا ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۶

جب بگاڑ آتا ہے

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جنت کا ملنا نہ مسلمانوں کی تمناؤں پر ہے اور نہ یہودیوں کی تمناؤں پر، جو شخص بھی کوئی برائی کرے گا اس کو اس کا بدلہ ضرور دیا جائے گا لیس بامانیکم ولا امانی اہل الکتاب من يعمل سوء يجزبه، نساء (۱۲۳) یعنی خدا نے جو دنیا بنائی ہے وہ عدل کے اصول پر بنائی ہے۔ یہ عدل کا اصول ہے ۔ عمل اور انجام میں مطابقت۔ یہاں کسی کے ساتھ ظلم ہے اور نہ جانب داری۔ یہاں ہر ایک کو ٹھیک وہی ملنے والا ہے جو اس نے کیا ہے۔ نہ کئے پر کسی کے لئے سزا نہیں اور کئے پر کوئی چھوٹا جانے والا نہیں۔ ایسی ایک دنیا میں اگر کوئی گروہ یہ سمجھ لے کہ اس کے ساتھ خصوصی معاملہ کیا جائے گا، اس کو اس ترازو پر نہیں تولا جائے گا جس ترازو پر دوسرے لوگ تولے جانے والے ہیں تو یہ صرف اس کی جھوٹی تمنائیں ہیں اور محکم قوانین پر مبنی اس خدائی دنیا میں کسی کی جھوٹی تمناؤں کے لئے یقینی طور پر کوئی جگہ نہیں۔

کسی گروہ کو آسمانی کتاب کا حامل بنانا اس کو دیگر قوموں کے مقابلہ میں خصوصی مقام دینا ہے۔ اس معنی میں پہلے یہود کو افضل الامم (بقره ۴۷) کہا گیا تھا۔ اور اسی معنی میں امت محمدی کو خیر الامم (آل عمران (۱۱۰) کہا گیا ہے۔ جو گروہ اس مقام افضلیت پر کھڑا کیا جائے اس پر دنیا میں خدا کے خصوصی انعامات ہوتے ہیں اور آخرت میں اس کے لئے جنت کی بشارتیں دی جاتی ہیں۔ مگر یہ انعامات کسی نسل یا قوم سے تعلق کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ تمام تر کارکردگی کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ بعد کے دور میں اس گروہ کے افراد اس فرق کو بھول جاتے ہیں۔ یہیں سے امانی (جھوٹی تمناؤں) کا آغاز ہو جاتا ہے۔ لوگ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ وہ خواہ عمل کریں یا نہ کریں خدا کے وعدے ان کے حق میں ضرور پورے کئے جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم کی صحت کیا ہے اور اس کا مرض کیا۔ اس کو اگر آج کل کی زبان میں بیان کرنا ہو تو یہ کہنا درست ہوگا کہ ایسی قوم جب صحیح ایمانی حالت پر ہو تو اس کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج ہوتا ہے اور حالت مرض میں ہو تو خوش خیالی کا۔

آخرت کی سرفرازیاں جن لوگوں کو جھوٹی تمناؤں اور خوش خیالیوں کی بنیاد پر مل رہی ہوں وہ عین اپنی نفسیات کی بنا پر دنیا کے معاملات میں بھی خوش خیال ہو جاتے ہیں۔ ان کی سیاست خوش خیالی کی راہ پر چل پڑتی ہے۔ وہ اپنی فرضی کارروائیوں سے حیرت انگیز طور پر بڑے بڑے نتائج کی امید کرنے لگتے ہیں۔ وہ حقیقتوں کی اس دنیا میں ایک خوش خیال گروہ بن کر رہ جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page