جھگڑے سے بچ کر
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۷
کرنے کی کوششوں میں لگاتا اس طاقت کو اس نے خود اپنی تعمیر میں لگانا شروع کر دیا۔ اس نئی فکر نے اس کے اندر نیا حوصلہ جگا دیا۔ وہ نہ صرف اپنے کھیتوں میں زیادہ محنت کرنے لگا بلکہ کھیتی کے ساتھ کچھ اور قریبی کاروبار بھی شروع کر دیا۔ اس کے نئے شعور کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی زندگی کو ازسرنو منظم کیا۔ وہ خرچ کو کم کرنے اور آمدنی کو بڑھانے کے اصول پر سختی سے عمل کرنے لگا۔ اسی کے ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم کی راہ پر لگا دیا۔ اس نے طے کر لیا کہ اپنے ہر بچہ کو اعلیٰ مرحلہ تک تعلیم دلائے گا۔ اس دوسرے شخص کو بھی اپنی کوششوں میں اسی طرح ۲۰ سال لگ گئے جس طرح پہلے شخص کو ۲۰ سال لگے تھے۔ مگر پہلے شخص کے لئے ۲۰ سال بربادی کے ہم معنی تھا، جب کہ دوسرے شخص کے لئے ۲۰ سال آبادی کے ہم معنی بن گیا۔ اس ۲۰ سال میں اس کے بچے پڑھ لکھ کر اچھے عہدوں پر پہنچ چکے تھے ۔ اس نے اپنی کھیتی اتنی بڑھالی تھی کہ اس کے یہاں ہل ہیں کے بجائے ٹریکٹر چلنے لگا تھا۔ جس کسان سے اس کا مینڈ کا جھگڑا ہوا تھا اس کا وہ پورا کھیت اس نے مینڈ سمیت خرید لیا۔
جس آدمی نے مینڈ کا جھگڑا اینڈ پرٹے کرنے کی کوشش کی وہ تباہ ہو گیا۔ اس کے برعکس جس نے مینڈ کو چھوڑ کر دوسرے میدان میں مقابلہ کی کوشش کی وہ آخر کار نہ صرف مینڈ کا مالک بنا بلکہ حریف کا پورا کھیت اس کے قبضہ میں آگیا۔
بجلی کا بلب جلتے جلتے بجھ جائے یا پنکھا چلتے چلتے رک جائے تو ہم بلب کو توڑ کر نہیں دیکھتے یا پنکھے سے نہیں الجھتے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بلب بجھنے اور پنکھا بند ہونے کی وجہ بلب اور پنکھے کے اندر نہیں ان کے باہر ہے۔ اور پھر جہاں سے فرق پڑا ہو وہاں درست کرکے اپنے بلب اور پنکھے کو دوبارہ چلا لیتے ہیں۔ انسانی معاملات بھی اکثر اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ بلب اور پنکھے کے معاملہ میں جو بات آدمی کبھی نہیں بھولتا اسی بات کو انسانی معاملہ میں ہمیشہ بھول جاتا ہے۔ آدمی کی یہ عام کمزوری ہے کہ جب بھی اس کی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی مقام پر اپنا سر ٹکرانے لگتا ہے جہاں مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ حالانکہ اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کہیں پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ کہیں ہوتی ہے۔ "حال" کا ایک واقعہ اکثر "ماضی" کے کسی واقعہ کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ ایک معاملہ میں کسی کی زیادتی اکثر حالات میں کسی اور معاملہ میں پائی جانے والی ایک صورت حال کے سبب سے وقوع میں آتی ہے۔ ایسی حالت میں بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی جائے وقوع پر سر نہ ٹکرائے۔ بلکہ اصل سبب کو معلوم کرکے بات کو وہاں بنانے کی کوشش کرے جہاں بات بگڑ جانے کی وجہ سے اس کے ساتھ دہ حادثہ پیش آیا ہے جس میں وہ آج اپنے کو مبتلا پاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues