Al-Risala · July 1981 · page 38

قومی ترقی کا راز

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۸

قومی ترقی کا راز

قدرت کا یہ قانون ہے کہ مقناطیسی میدان اور حرکت کو یکجا کیا جائے تو وہاں جتنے تار ہوں گے سب میں الیکٹران دوڑنے لگیں گے۔ جز شیراسی قانون قدرت کو استعمال کر کے بجلی پیدا کرتا ہے۔ اب اگر ایسا ہو کہ جز شیرا چالو کرنے کے بعد کسی تار میں الیکٹران دوڑیں اور کسی تار میں نہ دوڑیں تو سارا تمدنی نظام درہم برہم ہو جائے۔ کیونکہ پھر بجلی پیدا کرنے کا عمل رک جائے گا۔ اور جب بجلی پیدا نہ ہوگی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ساری تمدنی مشین ٹھپ ہو کر رہ جائے گی۔

ایک چرواہے سیکڑوں بھیڑ بکریوں کو لے کر پہاڑ کی گھاٹیوں میں چراتا ہے۔ بکریاں چرتے چرتے اپنی نیچی کھائیوں میں گم ہو جاتی ہیں۔ مگر جب لوٹنے کا وقت آتا ہے تو چرواہا ایک جگہ کھڑا ہو کر آواز دیتا ہے اور اور اس کی ایک آواز پر تمام بھیڑ بکریاں اپنی اپنی جگہ سے نکل کر آواز کی طرف چل پڑتی ہیں۔ تھوڑی دیر میں گلہ تیار ہو جاتا ہے اور چرواہا ان کو لے کر اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ چرواہا کی آواز کے باوجود بھیڑ بکریاں اپنی اپنی جگہ پر ہی بن کر پڑی رہیں تو چرواہی اور گلہ بانی کا کام کرنا غیر ممکن ہو جائے۔ یہی اصول قوموں کے معاملہ میں بھی ہے۔ کسی قوم کی ترقی کا راز یہ ہے کہ کوئی فکر اس کے افراد میں اس طرح اتر جائے کہ وہ پوری قوم کو متحرک کر سکے۔ گستادلی بان نے عربوں کا تاریخی مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے: انسانی ترقی کا سب سے بڑا سبب کسی ایک تخیل کی پرستش ہے۔ یہ تخیل خواہ کوئی بھی ہو، اس قدر کافی ہے کہ وہ اتنا قوی ہو کہ قوم میں متحوہ احساس اور متحدہ امید پیدا کر دے۔ اور قوم کے ہر فرد کا اعتقاد اس کی نسبت اتنا زور آور ہو کہ وہ اس کے لئے اپنی جان دینے پر آمادہ ہو جائے۔ رومیوں کا تخیل شہر روم کی ترقی تھی۔ عیسائیوں کا تخیل عقبیٰ کا آرام حاصل کرنا تھا۔ موجودہ زمانہ میں بھی انسان نے نئے نئے معبود بنا لئے ہیں جو یقیناً فرضی ہیں مگر ان کے لئے وہ اتنے ہی مؤثر ہیں جتنا قدیم قوموں کے لئے ان کے معبود تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ محض ان حوادث کی ایک سرگزشت ہے جن کو انسان نے کسی تخیل کی تلاش میں طے کیا ہے۔ اگر یہ تخیل نہ ہوتا تو انسان ابھی تک وحشیانہ حالت میں ہوتا اور کسی قسم کا تمدن قائم نہ کر سکتا۔ قوم کا تنزل اسی دن سے شروع ہو جاتا ہے جس دن اس کے پاس کوئی ایسا تخیل نہ رہے جس کی حفاظت کے لئے ہر ایک فرد قوم اپنی جان دینے پر آمادہ ہو۔ عربوں نے ملک کے ملک فتح کئے ۔ انھوں نے پہلے حکومت یونان و روم کے جانشینوں سے شکست کھائی۔ مگر وہ بالکل ہمت نہ ہارے۔ انھوں نے انھیں حریف قوموں سے فنون جنگ کو سیکھا۔ جب دہ فن جنگ میں ان کے برابر ہو گئے تو پھر وہ برابر کامیاب ہوتے رہے۔ ہر عرب سپاہی اس تخیل پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار تھا جس کے سایہ میں وہ لڑ رہا تھا۔ اس کے برعکس یونانیوں اور رومیوں کی فوج میں سارا جوش، سارا ولولہ اور رسائے اعتقادات مدت دراز سے مرچکے تھے (تمدن عرب ۳۰ - ۶۲۹)

الر - جلانی ۱۹۸۱

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page