جو دوسرے کا برا چاہے وہ اپنا نقصان کرتا ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۳۳
بندوں کے ساتھ جو کروگے وہی خدا تمھارے ساتھ کرے گا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت معاویہ سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: جو حاکم ضرورت مندوں اور کمزور لوگوں کے لئے اپنا دروازہ بند کرے گا تو اللہ اس کی حاجت اور اس کی ضرورت اور اس کی مسکینی کے وقت اس کے لئے آسمان کے دروازے بند کر دے گا (ما من امام یغلق بابہ دون ذوی الحاجۃ والخلة والمسكنة الا اغلق اللہ ابواب السماء دون خلته وحاجته ومسکنته ، ترمذی) برائی کا جواب بھلائی سے دینا قال عمر: ما عاقبت من عصى اللہ فیک بمثل ان عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص تمھارے معاملہ میں اللہ کی تطیع اللہ فیہ (تفسیر ابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۲۴) نافرمانی کرے، اس کا سب سے اچھا بدلہ یہ ہے کہ تم اس کے معاملہ میں اللہ کی فرماں برداری کرو لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے صبر کرو حضرت احنف بن قیس تابعی فرماتے ہیں: جو شخص ایک کڑوی بات پر صبر نہیں کرے گا اس کو بہت سی کڑوی باتیں سننی پڑیں گی۔ بہت بار میں غصہ کو اس لئے پی گیا کہ اگر میں ایسا نہ کرتا تو اس سے بھی زیادہ سخت چیز کا اندیشہ تھا (من لم یصبر علی کلمۃ سمع کلمات و رب غیظ تجرعته مخافة ما هو اشد منه)
کسی کے خلاف زیادتی ہو جائے تو اس کی تلافی کے لئے اس کے حق میں دعا کیجئے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهم انی اتخذ عندک عهد الن تخلفه ۔ انما انا بشر فای المومنین آذيته او شتمته او جلدته او لعنته فاجعلها صلاۃ وزکاۃ وقربۃ تقربه بها يوم القيامة (صحیح ابن منیع) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ ! میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں تو اس کے خلاف نہ ہونے دے۔ میں صرف ایک بشر ہوں، پس میں نے جس مسلمان کو تکلیف دی ہو یا اس کو گالی دی ہو یا اس کو مارا ہو یا اس پر لعنت کی ہو تو تو اس کو اس شخص کے حق میں رحمت اور پاکیزگی بنا دے اور اس کو قربت بنا دے جس کے ذریعہ وہ قیامت کے دن تیرا قرب حاصل کرے ۔
جو دوسرے کا برا چاہے وہ اپنا نقصان کرتا ہے
قال ابو العیناء قلت لاحمد بن ابی دواد ان قوما ابو العیناء کہتے ہیں۔ میں نے احمد بن ابی دواد سے کہا کہ کچھ تظاهروا على ۔ قال: يد اللہ فوق ايديهم (فتح) لوگوں نے میرے اوپر چڑھائی کی ہے۔ انھوں نے کہا اللہ کا قلت اللهم عددا وانا واحد ۔ قال: كم من فئة ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔ میں نے کہا وہ لوگ تعداد میں قليلة غلبت فئة كثيرة باذن اللہ (بقرہ) قلت ان زیادہ ہیں اور میں اکیلا ہوں۔ انھوں نے کہا کتنے چھوٹے گروہ للقوم مكرا ۔ قال: ولا يحيق المكر السيئ الا بالهله اللہ کے حکم سے بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں۔ میں نے کہا ان (فاطر) لوگوں نے تدبیریں کر رکھی ہیں۔ انھوں نے کہا بری تدبیر کا
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues