Al-Risala · January 1981 · page 34

ناحق میں کسی کا ساتھ دینا گناہ ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۳۴

وبال تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے (قرآن)

ناحق میں کسی کا ساتھ دینا گناہ ہے

واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ عصبیت کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم ظلم میں اپنے لوگوں کی حمایت کرو (ان تعین قومك على الظلم، أبو داود) ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنا خواہ وہ کم زور ہو یا طاقت ور معاویہ بن ابی سفیان نے ضرار بن صہانی سے کہا کہ اے ضرار، مجھ سے علی کی صفت بیان کرو (ریاض الصالحین) اس کے جواب میں انھوں نے جو کچھ کہا، اس کے چند جملے یہ تھے: وہ ہمارے اندر ایک شخص کی مانند تھے۔ کوئی طاقت ور اپنے باطل میں ان سے امید نہ کر سکتا تھا اور کوئی کم زور ان سے عدل پانے میں مایوس نہ ہو سکتا تھا (کان فینا كاحّدنا لا يطمع القوى في باطله ولا ييأس الضعيف من عدله)

جو معافی طلب کرے اس کی معافی قبول کرو

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: مَن أتاهُ أخوُه متَنصِّلا فليَقبَلْ ذلِكَ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس اس کا مسلمان بھائی مُحِقّاً كانَ أوْ مُبْطِلاً فإنْ لَم يَفْعَلْ لَمْ يَرِدْ عَلَیَّ صفائی کرنے کے لئے آئے تو اس کو چاہئے کہ اس کا عذر الحوض (ترغیب و ترہیب بحوالہ حاکم) قبول کرے خواہ وہ صحیح کہہ رہا ہو یا غلط۔ اگر وہ عذر قبول نہ کرے گا تو وہ حوض کوثر پر مجھ تک نہیں پہنچے گا۔

قرآن میں غیبت کی تین قسمیں

قال الحسن الغيبة ثلاثة اوجه كلها في كتاب حسن بصری نے کہا، غیبت کی تین صورتیں ہیں۔ غیبت، اللہ تعالی: الغيبة والا فك والبهتان - فاما الغيبة افک اور بہتان ۔ غیبت یہ ہے کہ اپنے بھائی کے بارے نهوان تقول فى اخيك ما هو فيه - واما الافك میں وہ بات کہو جو اس کے اندر موجود ہے۔ افک یہ ہے کہ فان تقول فيه ما بلغک۔ - واما البهتان فان تقول اس کے بارے میں وہ بات کہو جو تم کو پہنچے۔ بہتان یہ ہے فيه ما ليس فيه کہ اس کے بارے میں وہ بات کہو جو اس کے اندر نہیں ہے۔

مومن کا سلوک دوسروں کے ساتھ کیسا ہونا چاہئے

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا: قد تروث نفسه من ثلاث : المراء والاکبار و تین چیزوں سے آپ نے اپنے آپ کو بچارکھا تھا۔ جھگڑا، مالا يعنيه - وترک الناس من ثلاث : كان لا گھمنڈ اور لایعنی کام۔ اور لوگوں کو بھی تین چیزوں سے محفوظ يذم احدا، ولا يعيبه، ولا يطلب عورته ولا رکھا تھا۔ آپ کسی کی برائی نہ کرتے، کسی کو عیب نہ لگاتے۔ آپ يتكلم الا فيما رجا ثوابه (الشمائل للترمذی) کسی کی کمزوریوں کے پیچھے نہ پڑتے۔ آپ صرف اس معاملہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page