انتخاب ہورہا ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۴۰
انتخاب ہورہا ہے
ہماری قریبی کہکشاں میں تقریباً دو سو ارب بہت بڑے بڑے ستارے ہیں اس قسم کی بے شمار کہکشائیں خلا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ کائنات ناقابلِ قیاس حد تک وسیع ہے۔ تاہم ساری معلوم کائنات میں نظامِ شمسی صرف ایک ہے۔ اسی نظامِ شمسی میں زمین ہے۔ زمین جیسا کره ساری کائنات میں کوئی دوسرا نہیں۔ پھر زمین کے اوپر انسان جیسی انوکھی مخلوق ہے انسان کے اندر زندگی ہے۔ وہ چلتا ہے اور بولتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے، وہ سوچتا ہے اور جانتا ہے۔ وہ ذاتی ارادہ کے تحت عمل کرتا ہے۔ یہ انسان ایسی انوکھی چیز ہے جس کے انوکھے پن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اتنا انوکھا انسان اللہ نے کیوں بنایا۔ جواب یہ ہے کہ ــــ ایک اور زیادہ انوکھی اور معیاری دنیا کے باسیوں کا انتخاب کرنے کے لئے جس کا نام جنت ہے۔
موجودہ دنیا ان مخلوقات کی دنیا ہے جو مجبورانہ اطاعت کر رہی ہیں، جو پابند ہو کر اللہ کی تابع ہیں۔ اب اللہ کو ایک ایسی مخلوق درکار ہے جو ارادی اطاعت کرنے والی ہو، جو پابند نہ ہو کر اس کی تابع ہو جائے۔ یہاں ایسے ہی افراد کا چناؤ ہو رہا ہے۔ اللہ کو ایسے لوگ مطلوب ہیں جو اختیار رکھتے ہوئے بے اختیار ہو جائیں۔ جو اللہ کو نہ دیکھتے ہوئے اس کو دیکھنے لگیں۔ جو دنیا میں گھرے رہ کر آخرت والے بن جائیں۔ جو انکار اور سرکشی کا موقع رکھتے ہوئے اعتراف اور اطاعت کا طریقہ اختیار کر لیں یہاں جو افراد اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے وہ اگلی زندگی میں جنتی دنیا میں بسائے جائیں گے۔ جنت انتہائی معیاری انسانوں کی انتہائی معیاری بستی ہوگی۔ وہ اتنی حسین اور لذیذ ہوگی کہ آدمی کبھی اس سے نہ اکتائے گا، وہاں نہ کوئی دکھ ہوگا اور نہ کوئی اندیشہ ۔ وہاں انسان کے لئے وہ سب کچھ موجود ہوگا جو وہ چاہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues