Al-Risala · July 1981 · page 41

اللہ والے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۴۱

اللہ والے

ہر آدمی کسی نہ کسی چیز کے لئے جیتا ہے۔ کوئی اپنے بیوی بچوں کے لئے جیتا ہے، کوئی مال دولت کے لئے اور کوئی عزت و اقتدار کے لئے۔ مگر اس قسم کی زندگی مومنانہ زندگی نہیں ۔ مومنانہ زندگی وہ ہے جب کہ آدمی اللہ کے لئے جینے لگے۔ اس کی سرگرمیاں خدا کے گرد گھومنے لگیں۔ اس کی سوچ اور خواہش پر خدا کا غلبہ ہو جائے۔ وہ زبان کھولے تو یہ سوچ کر کھولے کہ خدا کو کیا پسند ہے اور کیا نا پسند۔ وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کو حرکت دے تو انہیں حدود میں حرکت دے جو خدا کی طرف سے اس کے لئے مقرر ہیں۔

آدمی کے سامنے کسی کی طرف سے ایک بات آتی ہے۔ اس کا نفس اس کے جواب کے لئے فوراً کچھ الفاظ سمجھاتا ہے۔ مگر جو اللہ میں جینے والے ہیں وہ نفس کے دئے ہوئے الفاظ کو نہیں دہراتے بلکہ خدا سے الفاظ لے کر بولتے ہیں۔ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ کل جب میں خدا کے سامنے کھڑا ہوں گا تو وہاں کون سے الفاظ مانے جائیں گے اور کون سے الفاظ رد کر دئے جائیں گے۔ جن الفاظ کے متعلق اس کا ضمیر کہتا ہے کہ وہ خدا کے یہاں رد ہو جائیں گے ان کو وہ اسی دنیا میں رد کر دیتا ہے اور صرف ان الفاظ کو اپنی زبان پر لاتا ہے جو خدا کے یہاں قبول کئے جانے والے ہوں۔ اسی طرح آدمی کے سامنے ایک معاملہ آتا ہے۔ اس کا نفس فوراً اس کو ایک طریقہ کی ترغیب دیتا ہے۔ مگر اللہ میں جینے والا آدمی نفس کے بتائے ہوئے طریقہ پر نہیں دوڑ پڑتا بلکہ یہ سوچتا ہے کہ کون سا طریقہ خدا کی ترازو میں انصاف کا طریقہ ثابت ہوگا اور کون سا بے انصافی کا۔ وہ بے انصافی کے طریقے کو چھوڑ دیتا ہے خواہ اس میں اس کو عزت اور دولت ملتی ہو اور انصاف والے طریقے کو پکڑ لیتا ہے خواہ بظاہر اس میں سبکی ہوتی ہو اور دنیا کا نقصان ہوتا ہوا نظر آتا ہو۔ وہ ہر بات کو خدا کے لحاظ سے دیکھتا ہے نہ کہ کسی اور لحاظ سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page