مومن کی دولت
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۳
مومن کی دولت
قرآن میں اللہ تعالیٰ نہ لے فرمایا: جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے میں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو خوش خبری دے دو کہ ایک دن آئے گا کہ اس مال پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی ۔ پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا (توبہ (۳۵) یہ آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا اب ہم کون سا مال جمع کریں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کی بابت سوال کیا۔ آپ نے فرمایا:
لیتخذ احدكم قلبا شاکراً ولساناً تم میں سے ہر شخص شکر کرنے والا دل اور یاد کرنے ذاكراً وزوجة مؤمنة تعين احد كم علی والی زبان کو اپنائے اور مومن بیوی کو جو آخرت کے معاملہ میں اس کی مدد کرے۔
دولت وہی ہے جو زندگی کے مسائل میں کام آئے۔ مومن کے لئے سب سے بڑا مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہوتا ہے، اس لئے وہ اسی چیز کو دولت سمجھتا ہے جو آخرت میں کام آنے والی ہو۔ آخرت میں جو چیز آدمی کے کام آئے گی وہ یہ کہ دنیا میں وہ اس طرح رہے کہ ہر حال میں وہ اللہ کا شکر کرنے والا ہو۔ اس کا دل اس طرح اللہ میں اٹکا ہوا ہو کہ ہر وقت اس کو اللہ کی یاد آتی رہے۔ جو شخص اپنے لئے آخرت والی زندگی پسند کرے وہ اپنی زندگی کا ساتھی بھی کسی آخرت پسند کو بنائے گا۔ ایسے آدمی کے لئے ایسی ایک بیوی بہت بڑی دولت ہے جو دنیا کے بجائے آخرت کو چاہتی ہو۔ جو اس کو دنیا کی وقتی چیزوں کی طرف کھینچ کر نے جائے بلکہ اس کو آخرت کی طرف چلنے میں مدد دے ۔ لوگ سونا چاندی کو دولت سمجھتے ہیں۔ مگر مومن کی دولت خدا ہے۔ وہ ان چیزوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے جو اس کو خدا سے قریب کرنے والی ہوں۔ جو بعد کو آنے والی دنیا ہیں اس کو خدا کی رحمتوں کا مستحق بنائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues