Al-Risala · July 1981 · page 42

کمینہ پن نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۴۲

کمینہ پن نہیں

مومن غلطی کر سکتا ہے مگر وہ کمینہ پن نہیں کر سکتا۔ غلطی وہ ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر وقتی طور پر ہو جائے۔ پھر جب جذبہ ٹھنڈا پڑے تو آدمی کو اپنی غلطی کا احساس ہو۔ وہ شرمندہ ہو کہ مجھ سے ایسا کیوں ہو گیا۔ جس کے ساتھ غلطی ہوگئی ہے اس سے مل کر معافی مانگے۔ وہ اپنی غلطی کی تلافی کرے اور اگر عملی تلافی کی صورت نہ ہو تو وہ اس کے لئے دعا کرے۔ وہ اللہ سے کہے کہ خدایا تو میری غلطی کو معاف فرما اور میری طرف سے اس کے حق میں دعائے خیر لکھ دے۔ اس کو اپنی غلطی کا اتنا شدید احساس ہو کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں ۔

کمینہ پن اس سے الگ چیز ہے۔ کمینہ پن محض وقتی جذبہ کے تحت نہیں ہوتا۔ وہ مستقل ذہن کے تحت ہوتا ہے، کمینہ آدمی کو اپنے کئے پر شرمندگی نہیں ہوتی ، اس کے ذہن میں یہ نہیں آتا کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کرے بلکہ وہ مقابل کے آدمی کو اور زیادہ تکلیف پہنچا کر خوش ہونا چاہتا ہے ۔ کمینہ آدمی کو جب کسی سے شکایت ہو جاتی ہے تو وہ صرف اس سے بے تعلق ہو جانے کو کافی نہیں سمجھتا۔ بلکہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف سازشیں کرتا ہے۔ اس کے اوپر جھوٹے مقدمے چلاتا ہے۔ اس کو اکھاڑنے اور اس کو برباد کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ وہ صرف اس کی غلطیوں کو غلطی کہنے پر قانع نہیں ہوتا بلکہ اس کی ہر چیز کو غلط ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس کی طرف سے بدگمان کرتا ہے۔ وہ اس کے بنتے ہوئے کام کو بگاڑنا چاہتا ہے اور اس کے ملتے ہوئے فائدہ کو بھنگ کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کرتا ہے۔ یہ سب کمینہ پن کی صورتیں ہیں اور کمینہ پن اور خدا کا دین دونوں ایک ساتھ کسی شخص کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔ کمینہ پن یہ ہے کہ آدمی اعتراف نہ کرے۔ ایک ہی قسم کی صورت میں وہ اپنے لوگوں سے کچھ معاملہ کرے اور دوسرے لوگوں سے کچھ ۔ وہ حسد اور انتقام سے اوپر اٹھ کر نہ سوچ سکے۔ ایسا آدمی خدا سے دور ہوتا ہے اور شیطان سے قریب۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page