لعنت کیوں
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۴
لعنت کیوں
یہود کو اللہ تعالی نے افضل الامم قرار دیا تھا، ان کو تمام دنیا والوں کے اوپر فضیلت عطا کی تھی (بقرہ ۴۷) ان کے لئے دنیا اور آخرت کی تمام نعمتوں کا وعوہ کیا تھا۔ مگر اس کے بعد یہود میں بگاڑ آیا جس کے نتیجہ میں خدا ان سے ناراض ہوا۔ یہاں تک کہ ان پر لعنت کر دی گئی۔ یعنی وہ ہر قسم کے خیر سے دور کر دئے گئے، ان کے لئے دنیا میں محکومی لکھ دی گئی اور آخرت میں عذاب۔ یہود کے وہ کون سے جرائم تھے جن کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، ان کا ذکر قرآن میں تفصیل سے موجود ہے۔ یہاں اس سلسلے میں کچھ حوالے نقل کئے جاتے ہیں:
حق کو پہچان لینے کے با وجود اس کو نہ ماننا بقرہ ۸۹ خدا کی طرف سے ملی ہوئی سچائی کو چھپانا اور اس کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرنا بقرہ ۱۵۹ خدا کے حکم کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس کا خود ساختہ مفہوم نکالنا نساء ۴۶ سچے اہل ایمان کی ضد میں غیر اللہ کے پرستاروں کو اچھا بتانا نساء ۵۲ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر ناحق ہلاک کرنا نساء ۹۳ خدا کے دین کے ساتھ خیانت کا معاملہ کرنا مائدہ ۱۳ اپنے درمیان ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان پر برائی کرتے دیکھنا مگر اس کو روکنے کی کوشش نہ کرنا مائدہ ۷۹ ایمان و اسلام کا دعوے دار ہوتے ہوئے نفاق کی روش اختیار کرنا توبہ ۷۸ اللہ نے جن لوگوں سے ہجرنے کا حکم دیا ہے ان سے قطع تعلق کا معاملہ کرنا رعد ۲۵ با عصمت خواتین پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگانا نور ۲۳ بے آمیز حق پر قائم ہونے کے سبب سے کسی شخص کو ستانا مائدہ ۲۰ اختیار پا کر اس کو بگاڑ اور بے انصافی کے لئے استعمال کرنا۔ محمد ۲۲ یہ چند علامتی برائیاں جو یہاں نقل کی گئیں وہ سب کی سب آج مسلمانوں میں پیدا ہو چکی ہیں۔ ان میں نہ صرف ان کے چھوٹے گرفتار ہیں بلکہ ان کے بڑے بھی پوری طرح ان میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر مسلمان یہ سمجھیں کہ وہ خدا کی اُس سنت سے مامون ہیں جس کی پکڑ میں یہود آ گئے تو خدا کی اس حکم دنیا میں اس سے زیادہ نادانی کی بات اور کوئی نہ ہوگی۔ خدا کے یہاں نہ یہود کی خوش خیالیوں کا کوئی اعتبار ہے اور نہ مسلمانوں کی خوش خیالیوں کا، جو بھی برا عمل کرے گا دہ اس کا بدلہ پائے گا (نساء ۱۲۳)
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues