بے خوفی کا راز
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۵
بے خوفی کا راز
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ ذات الرقاع ہے جو سرہ میں پیش آیا۔ اس غزوہ کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے صحیح بخاری (کتاب المغازی) میں نقل ہوا ہے۔ سیرت کی کتابوں میں بھی یہ واقعہ معمولی فرق کے ساتھ آیا ہے۔ بنو غطفان کا ایک شخص جس کا نام غورث ابن الحارث تھا، اس نے اپنی قوم سے کہا: کیا میں تمھارے لئے محمد کو قتل کر دوں (الا اقتل لكم محمدا)! انھوں نے کہا ضرور، مگر تم کیسے ان کو قتل کرو گے۔ غورث نے کہا: میں ان کو غفلت کی حالت میں پکڑوں گا اور قتل کر دوں گا۔ اس کے بعد غورث روانہ ہوا۔ وہ ایک مقام پر پہنچا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ اس مقام پر درخت اور جھاڑیاں تھیں لوگ جھاڑیوں کے سایہ میں لیٹے ہوئے تھے رسول اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے آرام کر رہے تھے اور اپنی تلوار آپ نے درخت کی شاخ سے لٹکادی تھی۔ اتنے میں مذکورہ اعرابی (غورث) آپ کو تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچا۔ اس نے جب دیکھا کہ آپ تنہا لیٹے ہوئے ہیں اور آپ کی تلوار بھی آپ سے الگ درخت کے اوپر لٹک رہی ہے تو اس نے بڑھ کر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی۔ پھر تلوار کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور کہا: آپ کو کون مجھ سے بچائے گا (یا محمد من یمنعک منی) آپ نے فرمایا اللہ عز و جل۔ اعرابی نے تلوار کو ہلاتے ہوئے کہا: اپنی اس تلوار کی طرف دیکھو جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔ کیا تم کو اس سے ڈر نہیں معلوم ہوتا۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ میں تم سے کیوں ڈروں۔ جب کہ مجھے یقین ہے کہ اللہ مجھے بچائے گا (یمنعنی الله منك) آپ کے پر اعتماد جواب کے بعد اعرابی کو اقدام کی ہمت نہ ہوئی ۔ اس نے تلوار میان میں ڈال کر آپ کو واپس کر دی (فشام الاعرا بی السیف) اب آپ نے اعرابی کو بٹھایا اور لوگوں کو آواز دی۔ لوگ آئے تو دیکھا کہ ایک اعرابی آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ آپ نے پورا قصہ بتایا۔ اعرابی سہما ہوا تھا کہ اب شاید تلوار میری گردن پر چلے گی۔ مگر آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کو کوئی سزا نہ دی (سیرت ابن ہشام جلد ۳، تفسیر ابن کثیر جلد اول) جو لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کر لیں ان کو کسی دوسری چیز کا خوف نہیں رہتا۔ یہ عقیدہ کہ اللہ ایک زندہ اور طاقت ور ہستی کی حیثیت سے ہر وقت موجود ہے، ان کو ہر دوسری طاقت کے مقابلہ میں نڈر بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں کسی شخص کی سب سے بڑی طاقت بے خوفی ہے۔ دشمن کو اگر یقین ہو جائے کہ اس کا حریف اس سے نہیں ڈرتا تو وہ خود اس سے ڈرنے لگتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues