Al-Risala · August 1981 · page 7

موت کے غار میں بھی

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۷

طُّ لطیف مجربات الأصمعی عبدالملک بن قریب کا بیان کہ میں نے بصرہ میں دیکھا کہ دو قبریں ہیں، ان کے درمیان ایک لڑکی بیٹھی ہوئی رو رہی ہے۔ غم کی وجہ سے اس کا برا حال ہو رہا ہے۔ میں قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ ان الفاظ میں دعا کر رہی ہے: اللهم انك كائن قبل كل شيئ وانك كائن بعد كل شيئ وانك خالق كل شيئ وانك يا رب قد خلقت ابوى من قبلی ثم خلقتنى بعدهما منهما وانك آنستنی بهما ماشئت ثم اوحشتنی منهما اذ شئت ۔ اللهم فكن لهما را حماوكن لی بعد هما حافظا اے اللہ، تو ہی سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد ہے۔ تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اے میرے رب تو ہی نے میرے ماں باپ کو مجھ سے پہلے پیدا کیا ، اس کے بعد ان دونوں سے مجھ کو پیدا کیا۔ تو نے ان کے ساتھ مجھے سکون دیا جب تک تو نے چاہا اور پھر جب چاہا تو نے ان کو مجھ سے جدا کر دیا۔ اے اللہ، تو ان دونوں پر رحم فرما اور ان کے بعد میری حفاظت فرما۔ اصمعی کا بیان ہے کہ اس لڑکی کے حسن کلام نے میری عقل کو مبہوت کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ اے بیٹی اپنے کلام کو پھر ایک بار دہر ا۔ یہ سن کر اس نے اپنا سر اٹھایا اور میری طرف دیکھ کر بولی : اے شیخ ، خدا کی قسم میں تمھاری بیوی نہیں ہے کہ تم مجھ سے اس قدر بے تکلف ہو۔ تم کو اپنے گھر والوں سے بے تکلف ہونا چاہئے۔ اصمعی کہتے ہیں : خدا کی قسم میں یہ سن کر شرما گیا اور وہاں سے بھاگ آیا ( ففررت واللہ ہر ماہ پہنچتا ہے ۔ پتا کاٹیں ۔ مدرس تم میں یہ ساتھ عنہا حیاء منها)

کے مع رابظ کوں کے اس کو ممکن بنایا گیا مرغایا اور یہاں سے جاتے وقت ایسا محسوس یٹنگ کے دوران شاہ جی کے ہاں بھی مہمان ایک معمولی لڑکی کے لئے یہ کیسے ممکن ہوا کہ وہ اتنے گہرے انداز میں دعا کرے۔ اس کی وجہ وہ حادثہ تھا جو اس پر گزرا۔ آدمی جب کسی جھٹکے سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے اندر چھپے ہوئے لطیف جذبات ۔ جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں پا لیتا ہے جو اس نے اس سے پہلے نہیں پائی تھیں ۔ وہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس کی زبان پر نہیں آئے تھے۔ آدمی طبعی طور پر آسودگی کے حالات کو پسند کرتا ہے ۔ مگر آسودگی کسی آدمی کو صرف اس قیمت پر ملتی ہے کہ وہ ان ربانی تجربات سے محروم رہ جائے جو اس کی فطرت کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page