Al-Risala · August 1981 · page 6

موت کے غار میں بھی

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۶

موت کے غار میں بھی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو آپ کی شدید ترین مخالفت کی گئی۔ آپ کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ آپ کو دبانے اور ناکام کرنے کے لئے وہ لوگ جو کچھ کر سکتے تھے وہ سب انھوں نے کیا۔ مگر آپ کا مشن بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ مدینہ کے لوگوں تک اسلام کی آواز پہنچی۔ وہاں کثرت سے لوگ مسلمان ہو گئے ۔ آپ کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی مکہ والے بہت ستاتے تھے۔ آپ نے مکہ کے مسلمانوں سے کہا مدینہ میں اللہ نے تمھارے لئے کچھ بھائی اور مددگار مہیا کر دیے ہیں، تم لوگ وہاں چلے جاؤ۔ لوگ ایک ایک کر کے جانے لگے ۔ قریش کو اس منصوبہ کا علم ہوا تو انھوں نے کوشش کی کہ لوگوں کو جانے سے روکیں ۔ کچھ لوگوں کو مارا، کچھ لوگوں کو پکڑ کر گھروں میں بند کر دیا۔ تاہم بیشتر لوگ کسی نہ کسی طرح مکہ سے مدینہ پہنچ گئے۔ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری تھی۔ قریش کو اندازہ ہو گیا کہ تمام مسلمانوں کو مدینہ بھیجنے کے بعد اب پیغمبر اسلام خود بھی مدینہ چلے جائیں گے۔ چنانچہ بنو ہاشم کے سوا تمام قبائل قریش کے سردار دار الندوہ (قصی بن کلاب کا مکان) میں جمع ہوئے۔ مشورہ میں مختلف تجویزیں سامنے آئیں ۔ بالآخر اس رائے پر اتفاق ہوا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک آدمی تلوار لے اور بیک وقت حملہ آور ہو کر محمد کو قتل کر دے۔ اس طرح محمد کا خون تمام قبائل میں تقسیم ہو جائے گا۔ بنو ہاشم تمام قبائل کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اور قصاص کے بجائے دیت پر راضی ہو جائیں گے۔ اس کے بعد اگلی رات کو تمام سرداروں نے آپ کا مکان گھیر لیا۔ تاکہ صبح کو جب آپ گھر سے باہر نکلیں تو اچانک حملہ کر کے آپ کا خاتمہ کر دیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام حالات کی خبر تھی اور آپ بھی خاموشی کے ساتھ اپنی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے، چنانچہ اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آپ اسی رات کو ابو بکر صدیق رضی کے ساتھ مکہ سے نکل گئے۔ آپ مکہ سے چل کر چار میل کے فاصلہ پر جبل ثور کے ایک غار میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ آپ کو اندازہ تھا کہ قریش کو جب معلوم ہوگا کہ آپ مکہ سے چلے گئے ہیں تو وہ آپ کی تلاش میں ادھر اُدھر نکلیں گے۔ اس لئے آپ چاہتے تھے کہ چند دن غار ثور میں گزاریں اور جب قریش کی تلاش رکے تو مدینہ کا سفر کریں۔

اب قریش کے سوار چاروں طرف آپ کی تلاش میں دوڑنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک دستہ غار ثور تک بھی پہنچ گیا۔ یہ لوگ تلواریں لئے ہوئے غار ثور کے پاس اس طرح کھڑے تھے کہ ان کے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دکھائی دے رہے تھے۔ یہ انتہائی خطر ناک لمحہ تھا۔ ابو بکر صدیق نے کہا: اے خدا کے رسول، دشمن تو یہاں تک پہنچ گیا۔ آپ نے کہا لا تحزن ان اللہ معنا (غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے) پھر اطمینان کے ساتھ فرمایا : اے ابو بکر، ان دو کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو (یا ابا بکر ما ظنک با ثنین اللہ ثالثھما)

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page