Al-Risala · August 1981 · page 11

ش کی اہمیت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۱۱

ش کی اہمیت

چارلس رِشٹر (Charless Richter) ایک امریکی سائنس داں ہیں۔ وہ زلزلہ کے ماہرین میں سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے ایک مخصوص پیمانہ دریافت کیا ہے جو آج دنیا بھر میں زلزلہ کی پیدا کردہ طاقت کو ناپنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو رِشٹر پیمانہ (Richter Scale) کہتے ہیں۔ چارلس رِشٹر نے کیلی فورنیا کی انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں نصف صدی تک زلزلہ کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے کہا: ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ زلزلہ کے خطرہ سے بچنے کے لئے آدمی کو کہاں بھاگنا چاہئے۔ کیلی فورنیا میں اس کا جواب بالکل سادہ ہے، وہ یہ کہ کہیں نہیں۔ امریکہ کی ۴۸ ریاستوں میں زلزلہ کا سب سے کم خطرہ فلوریڈا اور ساحلی ٹیکساس میں ہے۔ مگر پھر میں سوال کروں گا کہ طوفان کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر علاقہ کے اپنے کچھ خطرات ہیں۔ اس لئے واحد بدل یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے مقام پر چلا جائے اور کسی دوسرے خطرہ کو گوارا کر کرے (ہندوستان ٹائمز ، ۸ اکتوبر ۸۰) آدمی کا یہ مزاج ہے کہ جو کچھ اس کو ملا ہوا ہے اس پر وہ مطمئن نہیں ہوتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی غیر مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ کوئی بظاہر خوش نصیب آدمی جس کو لوگ قابل رشک سمجھتے ہیں وہ بھی اندر سے اتنا ہی غیر مطمئن ہوتا ہے جتنا وہ لوگ جو اس کو رشک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہر شخص کو کوئی نہ کوئی نعمت ملی ہوئی ہے۔ مگر جس کے اندر شکر کی نفسیات نہیں ہوتی وہ غیر حاصل شدہ نعمت کی طرف متوجہ رہتا ہے اور جو نعمت ہر وقت اسے حاصل ہے اس کو حقیر سمجھتا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر اپنے خدا کے لئے شکر کا جذبہ نہیں ابھرتا۔ وہ عین اسی چیز سے محروم رہ جاتا ہے جس کو اسے سب سے زیادہ اپنے سینہ کے اندر پرورش کرنا چاہئے۔ موجودہ دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مکمل راحت کسی کے لئے نہیں۔ ایک جغرافیہ کا آدمی وہاں کے مسائل سے گھبرا کر دوسرے جغرافیہ میں چلا جائے تو اس کو دوسرے جغرافیہ میں پہنچ کر معلوم ہوگا کہ یہاں بھی مسائل ہیں۔ اسی طرح اگر کم آمدنی والے کے مسائل ہیں تو زیادہ آمدنی والے کے بھی مسائل ہیں۔ اگر بے زور آدمی کے مسائل ہیں تو ان کے بھی مسائل ہیں جن کو زور و قوت حاصل ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں کسی آدمی کو مسائل سے فرصت نہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ جن مسائل کے درمیان ہے ان کو گوارا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے۔ اس کی تو جہات کا مرکز خدا کی رضا حاصل کرنا ہو نہ کہ مسائل سے پاک زندگی کا مالک بننا، کیونکہ وہ تو آخرت سے پہلے ممکن ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page