قائع بنئے
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۱۲
قائع بنئے
ایک صاحب نے اپنی زندگی کا آغاز معمولی ملازمت سے کیا تھا اور اب ان کا کافی بڑا کاروبار ہو چکا ہے، انھوں نے ایک ملاقات میں کہا : ”جب میں دو سو روپیہ کا ملازم تھا تو میں اپنے کو سو روپیہ کا آدمی سمجھتا تھا ، اب جب کہ میرا کاروبار دو کروڑ روپیہ تک پہنچ چکا ہے تب بھی میں اپنے کو صرف ایک کروڑ روپیہ کا آدمی سمجھتا ہوں“۔ ــــ یہ وہی چیز ہے جس کو مذہب کی اصطلاح میں قناعت کہا جاتا ہے ۔ اس قناعت کا تعلق انفرادی معاملات سے بھی ہے اور اجتماعی معاملات سے بھی ۔
یہ بات جو ایک آدمی نے سادہ طور پر کہی ، یہی زندگی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ اکثر حالات میں آدمی صرف اس لئے ناکام رہتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں زیادہ اندازہ کر لیتا ہے ، وہ اپنی حقیقی استعداد سے زیادہ بڑا اقدام کر دیتا ہے ، وہ ”کم“ پر قناعت نہ کرتے ہوئے ”زیادہ“ کی طرف دوڑ پڑتا ہے ۔ آدمی اگر مذکورہ تاجر کے اصول پر رہے تو وہ کبھی ناکامی سے دوچار نہیں ہو سکتا۔ جو آدمی زیادہ خرچ کی استطاعت رکھتے ہوئے کم خرچ کرے وہ کبھی اقتصادی بحران کا شکار نہیں ہو گا۔ جو آدمی دوڑنے کی طاقت رکھتے ہوئے آہستہ چلے اس کے ساتھ کبھی یہ حادثہ پیش نہ آئے گا کہ وہ راستہ میں تھک کر بیٹھ جائے۔ جو اپنے مخالف پر وار کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہوئے صبر کر جائے وہ کبھی اپنے مخالف سے شکست نہیں کھا سکتا ۔ جو بڑے کام کے قابل ہوتے ہوئے اپنے آپ کو چھوٹے کام میں لگا دے وہ کبھی اپنی کوششوں کو رائیگاں کرنے والا ثابت نہیں ہوگا۔ جو سیاسی مقابلہ آرائی کا موقع رکھتے ہوئے غیر سیاسی کام میں اپنے کو مشغول کر لے اس کا یہ انجام کبھی نہ ہوگا کہ پرشور عمل کے بعد بالا خراس کے حصہ میں جو چیز آئے وہ صرف احتجاج اور فریاد ہو۔ جس کے لئے شہرت کا میدان کھلا ہوا ہو مگر وہ اپنے کو گم نامی کے میدان میں کام کرنے پر راضی کرے۔ وہ کبھی اس حال میں دنیا سے نہیں جا سکتا کہ اس نے اپنے پیچھے اپنا شان دار مقبرہ تو چھوڑا ہو مگر اس کے عمل کے شان دار نتائج کا کہیں پتہ نہ ہو۔
ایک شخص کا قول ہے : دور کے بڑے فائدہ کی خاطر قریب کے چھوٹے فائدہ کو قربان کیا جا سکتا ہے: Present short interest can be sacrificed for the larger long range gain اس میں شک نہیں کہ یہ ترقی کا بہت اہم اصول ہے ۔ مگر اس اصول کو وہی لوگ برت سکتے ہیں جو دور تک سوچ کر اقدام کرنا جانیں نہ کہ فوری طور پر بھڑک کر اٹھ کھڑے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues