حیوان اور انسان کا فرق
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۱۴
حیوان اور انسان کا فرق
حیوان اور انسان جسمانی بناوٹ میں ایک دوسرے سے بہت مشابہ ہیں ۔ دونوں کا حیاتیاتی نظام بعض ظاہری فرق کو چھوڑ کر ، تقریباً یکساں ہے۔ مگر حیوان کا بچہ حیوان پیدا ہوتا ہے اور بڑا ہو کر بھی حیوان ہی رہتا ہے۔ وہ حیوانیت کے مقام سے آگے نہیں بڑھتا۔ جب کہ انسان کے آغاز و انجام میں بہت فرق ہے۔ وہ ابتدائی پیدائش کے وقت بظاہر حیوان کی سطح پر ہوتا ہے مگر بڑھتے بڑھتے بالکل دوسری مخلوق بن جاتا ہے۔ وہ حیوانیت کی سطح سے اٹھ کر انسانی کمال کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ بعض حیاتیاتی مشابہت کے باوجود حیوان حیوان ہے اور انسان انسان۔
انسانی جنین میں کچھ ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جو حیوانی جنین میں نہیں ہوتیں۔ اس کی وجہ سے انسانی جنین بڑھتے بڑھتے بالآخر ایک ”دوسری مخلوق بن جاتا ہے۔ جب کہ حیوانی جنین میں ترقی کی یہ صلاحیت نہیں ہوتی ، وہ بڑھنے کے بعد بھی حیوانی مرحلہ ہی میں ٹھہر کر رہ جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کے اندر وہ خصوصیات موجود نہیں ہوتیں جو اس کو آگے لے جاسکیں ۔ کوئی بھی کوشش حیوانی جنین کو انسان تک ترقی نہیں دے سکتی۔
معلوم ہوا کہ حیوان اور انسان میں ظاہری مشابہت کے باوجود بہت بنیادی فرق پایا جاتا ہے ۔ حیوان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے حیوانی مرتبہ سے آگے بڑھ کر مرحلہ در مرحلہ میکانکی ترقی کرتا ہوا انسان کے مرتبہ تک پہنچ جائے ، جیسا کہ ارتقا پسند علماء دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس انسان کے لئے فطری طور پر مقدر ہے کہ وہ ان ترقیاتی مرحلوں سے گزرے اور بالآخر کامل انسانیت کے مقام کو حاصل کرے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حیوان اور انسان دو بالکل مختلف نوعیں ہیں۔ ابتدائی ہیولیٰ اگر چہ دونوں کا بہت کچھ ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ دونوں کو ایک ہی طرح کی دنیا میں رہنا بسنا ہوتا ہے ۔ مگر انسان کے اندر خدا نے اپنی روح پھونکی جس کی وجہ سے انسان ایک اور ہی مخلوق بن گیا۔ یہی خدائی روح ہے جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ انسانی جنین حیوان کی منزل سے گزر کر ایک اعلیٰ مخلوق کی صورت اختیار کرلے۔ دونوں ہی کا تعلق خدائی مقدرات سے ہے۔ حیوان کے لئے اول دن سے یہ مقدر رہتا ہے کہ وہ حیوان بنے اور انسان بھی اول دن یہ قدرتی فیصلہ اپنے ساتھ لے کر آتا ہے کہ اس کو بالآخر انسان بن کر کھڑا ہونا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues