تضاد فکری
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۱۶
تضاد فکری
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہیں بنائے اور نہ تمھاری بیویوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمھاری مائیں بنایا اور نہ تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارے بیٹے بنایا۔ یہ تمھارے اپنے منہ کی بات ہے۔ اور اللہ حق کہتا ہے اور وہ صحیح راہ دکھاتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں (احزاب، ابتدائی آیات) قدیم عربوں میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی شخص نادانی میں اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتا (مثلاً انتِ علیّ کظہرامی) تو وہ اس کے لیے حقیقی ماں کی طرح حرام ہو جاتی۔ گویا اس لفظ کے بولنے سے وہ سچ مچ اس کی ماں بن گئی ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص کسی کو منھ بولا بیٹا (تبنیٰ) بنا لیتا تو وہ اس کو صلبی بیٹے کی طرح سمجھنے لگتے اور اس پر وہی احکام صادر کرتے جو حقیقی بیٹے کے لیے ہوتے ہیں۔ اسلام نے اس جاہلی رواج کے خاتمہ کا اعلان کیا۔
"ایک سینہ میں دو دل" کا مطلب کسی شخص کا بیک وقت دو متضاد نقطہ نظر رکھنا ہے۔ خدا نے جب انسان کے سینہ میں دو دل نہیں رکھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے کے انداز میں بھی دوئی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ بات خدائی اسکیم کے خلاف ہے کہ کوئی شخص بیک وقت دو مختلف اور متضاد نظریہ کو اپنے اندر جگہ دے۔ ایک طرف وہ حقیقی ماں اور بیٹے کو ماں اور بیٹا سمجھے اور دوسری طرف محض زبان سے کسی کو ماں یا بیٹا کہہ دینے کی بنا پر بھی اس کو ماں یا بیٹا ماننے لگے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا فکری دوئی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ایک طرف ایک حقیقی چیز کو حقیقت سمجھا اور دوسری طرف ایک بے حقیقت چیز کو بھی حقیقت قرار دیا۔ یہ دو متضاد خیالات کو ایک دل میں جگہ دینا ہے جو فطرت کے وحدانی نقشہ کے سراسر خلاف ہے۔ یہ سچائی اور تعصب کو ایک ساتھ ماننا ہے حقیقت پسندی اور توہم پرستی کو بیک وقت اپنے ذہن میں جگہ دینا ہے۔ ایک رواجی نقطہ نظر کو بھی اسی طرح تسلیم کرنا ہے جس طرح خالص عقلی نقطہ نظر کو تسلیم کرنا چاہئے۔ اسی طرح توحید کے عقیدہ کے ساتھ مشرکانہ خیالات کو ماننا، حقیقت واقعہ اور توہمات کو ایک ساتھ اپنے ذہن میں جگہ دینا، اصولی صداقت کا اقرار کرنے کے ساتھ شخصیت پرستی کو اختیار کرنا۔ قرآن کی محکم آیتوں پر عقیدہ رکھتے ہوئے پُر جو بہ قصے کہانیوں میں مشغول ہونا، سب ایک دل والے سینہ کو دو دل والا سینہ بنانا ہے جو سراسر تضاد ہے اور ایسا ہر تضاد خدا کی اس بے تضاد دنیا میں جگہ پانے کے قابل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues