رہنما کی ضرورت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۱۷
رہنما کی ضرورت
ہم کو بھوک لگتی ہے ۔ ہم اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کھانا موجود تھا جو ہماری بھوک کو مٹائے۔ ہم کو پیاس لگتی ہے۔ ہم اپنی پیاس کو بجھانے کے لئے عمل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں پانی موجود تھا جو ہماری پیاس کو بجھائے۔ ایسا ہی معاملہ سچائی کا ہے۔ آدمی ہمیشہ سے سچائی کی تلاش میں ہے۔ یہ تلاش ہی اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ یہاں کوئی سچائی ہے جسے آدمی کو جاننا چاہئے۔ سچائی کھانے اور پینے سے زیادہ بڑی ہے ۔ پھر جب ہماری چھوٹی طلب کا جواب اس دنیا میں موجود ہے تو ہماری بڑی طلب کا جواب یہاں کیوں نہ موجود ہوگا۔ سچائی کا سوال اپنی حقیقت کو جاننے کا سوال ہے۔ آدمی اچانک ایک روز پیدا ہو جاتا ہے ۔ حالاں کہ اس نے خود کو پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک دنیا میں پاتا ہے جو اس سے الگ خود اپنے آپ قائم ہے۔ وہ پچاس سال یا سو سال اس دنیا میں رہ کر مر جاتا ہے۔ اس کو نہیں معلوم کہ وہ مرکر کہاں جاتا ہے۔ زندگی اور موت کی اسی حقیقت کو جاننے کا سوال سچائی کا سوال ہے۔
مگر ایک شخص جس طرح کھانا اور پانی کو جان لیتا ہے اسی طرح وہ سچائی کو نہیں جان سکتا۔ سچائی یقینی طور پر لامحدود اور ابدی ہے۔ سچائی اگر لامحدود اور ابدی نہ ہو تو وہ سچائی نہیں۔ مگر آدمی کی عقل اور اس کی عمر دونوں محدود ہیں۔ محدود عقل لامحدود سچائی تک نہیں پہنچ سکتی ، محدود عمر کا آدمی ابدی سچائی کو دریافت نہیں کر سکتا۔
آدمی کی یہی نارسائی یہ ثابت کرتی ہے کہ سچائی کو جاننے کے لئے اسے پیغمبر کی ضرورت ہے ۔ "پیغمبری" کیا ہے۔ پیغمبری کا مطلب یہ ہے کہ وہ سچائی جہاں تک آدمی اپنے آپ نہیں پہنچ سکتا تھا وہ خود آدمی تک پہنچ جائے۔ جس سچائی کو ہم اپنی کوششوں سے نہیں جان سکے ، وہ خود ظاہر ہو کر اپنے بارے میں ہمیں بتا دے۔
حقیقت سے لوگوں کو پیشگی طور پر باخبر کرنے کے لئے اس کو خدا نے پیغمبر کے ذریعہ کھولا ۔ موجودہ امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کو براہ راست ہر آدمی پر کھول دیا جائے گا۔ پیغمبر نے بتایا کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ جس خدا کی اطاعت ساری کائنات جبر کے تحت کر رہی ہے اسی خدا کی اطاعت انسان ارادہ کے تحت کرنے لگے۔ وہ اپنے اختیار سے خود کو خدا کے آگے بے اختیار بنا لے۔ خدا کی دی ہوئی آزادی کے باوجود جو لوگ خدا کے محکوم بن جائیں ان کے لئے جنت ہے اور جو لوگ آزادی پا کر سرکش بن جائیں ان کے لئے جہنم۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues