جس کی بات ہو خود اس سے تحقیق کئے بغیر نہ ماننا
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۳۶
جس کی بات ہو خود اس سے تحقیق کئے بغیر نہ ماننا
ابو العالیہ تابعی (متوفیٰ ۹۳ھ) کہتے ہیں: ہم بصرہ میں لوگوں سے سنتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ایسا کہا ہے۔ مگر ہم اس طرح سننے پر راضی نہ ہوتے بلکہ ہم سوار ہو کر مدینہ جاتے اور وہاں صحابی کی اپنی زبان سے حدیث کو سنتے (کنا نسمع الرواية عن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن بالبصرة - فما نرضى حتى نركب الى المدينة فنسئم معها من افواههم، الكفايه في علم الروایہ، خطیب بغدادی صفحه ۴۰۴) عمومی فساد ہمیشہ انفرادی شرارت سے پیدا ہوتا ہے واذا اردنا ان نهلك قرية امرنا مترفيها اور جب ہم کسی بستی کو غارت کرنا چاہتے ہیں تو اس کے ففسقوا فيها فحق عليها القول فدمّرناها سرکش لوگوں کو حکم دیتے ہیں۔ پھر وہ شرارت کرتے ہیں تب تدميرا (اسرار ۱۶) ان پر حجت تمام ہو جاتی ہے۔ پھر ہم اس بستی کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔
اس آیت کی تشریح میں حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: یعنی ان کے اوپر ہم ان کے شریر لوگوں کو مسلط کر دیتے ہیں۔ پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں۔ جب وہ ایسا کر لیتے ہیں تو اللہ ان کو عذاب بھیج کر ہلاک کر دیتا ہے (سلطنا اشرارها ففسقوا فيها فاذا فعلوا ذلك اهلكهم الله بالعذاب، تفسير ابن كثير)
اجازت نہ ملے تو برا مانے بغیر واپس آجانا
عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا يزيد علی ثلاث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے یہاں جاتے تو تین تسليمات فان اذن له والا انصرف بار سلام کرتے۔ اگر اجازت مل جاتی تو ملتے ورنہ واپس (رواه البزار عن انس بن مالک) ہو جاتے ۔
اپنی ذات سے زیادہ ماں باپ کا خیال کرنا
حضرت ابو ہریرہ کو اپنے ماں کے حقوق ادا کرنے کا بہت زیادہ خیال رہتا تھا۔ مدنی زندگی کے ابتدائی دور کا واقعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں اپنے گھر سے نکلا اور مسجد پہنچا، وہاں میں نے دیکھا کہ اور بھی کئی لوگ ہیں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ اس وقت تم کو کیا چیز یہاں لے آئی ہے؟ ۔ میں نے کہا بھوک ۔ انھوں نے کہا: خدا کی قسم ہم بھی صرف بھوک کی وجہ سے اس وقت یہاں آئے ہیں۔ پھر ہم سب لوگ اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ۔ آپ نے پوچھا کہ اس وقت تم لوگ کیسے یہاں آئے؟ ۔ ہم نے بتایا۔ آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ نے ہم میں سے ہر شخص کو دو کھجوریں دیں اور کہا کہ ان دو کھجوروں کو کھاؤ اور اس کے بعد پانی پیو۔ وہ تمھارے آج کے لئے کافی ہو جائیں گی ۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک کھجور کھائی اور دوسری کھجور چھپا کر رکھ لی۔ آپ نے فرمایا : اے ابو ہریرہ تم نے کیوں ایک کھجور رکھ لی۔ میں نے کہا کہ اپنی ماں کے لئے آپ نے فرمایا : اس کو کھاؤ، تمھاری ماں کے لئے ہم اور دو کھجوریں دے دیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues