مسلمان کی ہر مصیبت اپنی لائی ہوئی ہوتی ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۳۷
مسلمان کی ہر مصیبت اپنی لائی ہوئی ہوتی ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز رات کو باہر نکلے ۔ آپ انصار کی ایک بستی بنو معاویہ کی مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور اس کے بعد غیر معمولی طور پر لمبی دعا فرمائی ۔ حضرت خباب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے خدا کے رسول ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، آج کی رات آپ نے ایسی نماز پڑھی جیسی نماز اس سے پہلے میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما: ہاں وہ رغبت اور خوف کی نماز تھی۔ میں نے اللہ عزوجل سے تین چیزیں مانگیں۔ اللہ نے مجھ کو دو چیزیں دے دیں اور ایک سے انکار فرمایا۔ میں نے اپنے رب سے مانگا کہ ہم کو اس طرح ہلاک نہ کرے جس طرح پچھلی امتوں کو ہلاک کیا تھا۔ اللہ نے اس کو قبول فرمايا ۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہمارے اوپر ہمارے علاوہ کسی دشمن کو غالب نہ کرے ۔ اللہ نے اس کو قبول فرمایا۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ایسا نہ کرے کہ ہم کو گروہوں میں تقسیم کر دے ( اور ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھائے ) اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا ۔ سألت ربی عز وجل ثلاث خصال فاعطانی اثنتین ومنعتی واحدة ۔ سألت ربی ان لا یہلکنا بما اہلک بہ الامم فاعطانیہا۔ وسألت ربی ان لا یظہر علینا عدواً من غیرنا فاعطانیہا وسألت ربی ان لا یلبسنا شیعا فذیق بعضھم بأس بعض ) فمنعنیہا، ، رواه الترمذی)
سخت بات پر مشتعل نہ ہونا
خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک روز لوگوں کے سامنے کہا کہ تم میں سے جو شخص میرے اندر ٹیڑھ دیکھے تو وہ اس کو سیدھا کر دے۔ یہ سن کر ایک آدمی اٹھا اور کہا : خدا کی قسم اگر ہم تمھارے اندر ٹیڑھ دیکھیں گے تو اس کو ہم اپنی تلوار سے سیدھا کر دیں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : اس خدا کا شکر ہے جس نے امت محمد میں ایسے لوگ بنائے جو عمر کی ٹیڑھ کو تلوار سے سیدھا کر دیں ( (خاطب عمر بن الخطاب اصحابہ ذات يوم فقال : من وجد فی اعوجاجاً فلیقومه، فنهض رجل وقال : والله لو وجد نافيك اعوجاجاً لقومناه بسیفنا - فقال عمر: الحمد لله الذى جعل في امة محمد من يقوم اعوجاج عمر بالسیف)
اجتماعی زندگی ہر حال میں ضروری ہے
عن ابی الدرداء قال سمعت رسول الله صلى الله عليه حضرت ابو الدرداء رض کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی وسلم يقول ما من ثلثة في قرية ولا بد و لا اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: جس بستی یا جنگل میں تقام فيهم الصلوة إلا استحوذ عليهم الشیطان تین آدمی ہوں اور وہاں با جماعت نماز نہ ہوتی ہو تو فعليكم بالجماعة فإنما يأكل الذئب من الغنم ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔ اس لئے جماعت کو ضروری القاصية وان ذئب الانسان الشیطان اذ اخلا بہ سمجھو۔ بھیڑیا اکیلی بکری کو کھا جاتا ہے اور آدمیوں کا اكله (ترغيب وترهيب)
بھیڑیا یا شیطان ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues