رہنما کی ضرورت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳
تذکیر القرآن الاعراف ۷ اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر ۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اس لئے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔ یا کہو کہ ہمارے باپ دادا نے پہلے سے شرک کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے ۔ تو کیا تو ہم کو ہلاک کر دے گا اس کام پر جو غلط کار لوگوں نے کیا۔ اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ رجوع کریں۔ ۱۷۲-۱۷۴ ایک جانور کو اس کے ماں باپ سے الگ کر دیا جائے اور اس کی پرورش بالکل علیحدہ ماحول میں کی جائے تب بھی بڑا ہو کر وہ مکمل طور پر اپنی نسلی خصوصیات پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں عین وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کی جبلت (Instinct) میں پیوست ہے۔ یہی معاملہ انسان کا "شعور رب" کے بارہ میں ہے۔ انسان کی روح میں ایک خالق و مالک کا شعور اتنی گہرائی کے ساتھ جما دیا گیا ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ایک اعتبار سے روس اور دوسرے اعتبار سے ترکی کا تجربہ بتاتا ہے کہ مکمل طور پر مخالف مذہب ماحول میں تربیت پانے کے باوجود انسان کی فطرت عین وہی باقی رہتی ہے جو اقرارِ مذہب کے ماحول میں ہمیشہ پائی جاتی رہی ہے۔
تاہم جانور اور انسان میں ایک فرق ہے۔ جانور اپنی فطرت کی خلاف ورزی پر قادر نہیں۔ وہ مجبور ہیں کہ عملاً وہی کریں جو ان کے اندر کی فطرت انہیں سبق دے رہی ہے۔ اس کے برعکس انسان کا حال یہ ہے کہ شعور فطرت کی حد تک پابند ہونے کے باوجود عمل کے معاملہ میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ جب بھی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اس کی عقل اور اس کا ضمیر اندر سے اشارہ کرتے ہیں کہ کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اپنی اندرونی آواز کی پیروی کرے، چاہے اس کو نظر انداز کر کے من مانی کارروائی کرنے لگے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہو رہا ہے اور اسی پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ جو شخص خدائی آواز پر کان لگائے اور وہی کرے جو خدا فطرت کی خاموش زبان میں اس سے کہہ رہا ہے، وہ امتحان میں پورا اترا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئے جائیں گے۔ اور جو شخص فطرت کی سطح پر نشر ہونے والی خدائی آواز کو نظر انداز کر دے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔ اس کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈالا جائے گا۔ خدا بھی اس کو نظر انداز کرے گا جس طرح اس نے خدا کی آواز کو نظر انداز کیا تھا۔
فطرت کی یہ آواز ہر آدمی کے اوپر خدا کی دلیل ہے۔ اب کسی کے پاس نہ تو بے خبری کا عذر ہے اور نہ کوئی یہ کہہ سکتا کہ ماضی سے جو ہوتا چلا آرہا تھا وہی ہم بھی کرنے لگے۔ جب انسان پیدائش ہی سے خدا کا شعور لے کر آتا ہے اور ماحول کے علی الرغم اس کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے تو اب کسی شخص کے پاس بے راہ ہونے کا کیا عذر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues