رہنما کی ضرورت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲
پھر ان کے پیچھے ناخلف لوگ آئے جو کتاب کے وارث بنے ، وہ اسی دنیا کی متاع لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یقیناً بخش دیئے جائیں گے ۔ اور اگر ایسی ہی متاع ان کے سامنے پھر آئے تو اس کو لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں اس کا عہد نہیں لیا گیا ہے کہ اللہ کے نام پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہیں۔ اور انھوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے ۔ اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے ، کیا تم سمجھتے نہیں۔ اور جو لوگ خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، بے شک ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے۔ اور جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے ۔ اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر آپڑے گا۔ پکڑ و اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے، اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم ۱۷۱ - ۱۶۹ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام دئے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔ اس وقت ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتا ہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کر دے۔ اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ مگر بعد کو دھیرے دھیرے انھوں نے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز نا جائز کا فرق کئے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوں نے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظر آنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہو گئے کہ ہم برگزیدہ امت ہیں۔ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔ یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوں میں یہ روح نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طور پر ہوتا ہے نہ حقیقت عہد خداوندی کے طور پر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوب خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش دئے جائیں گے ۔
مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے ، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی "مصلح" بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے نہ کہ مفسد۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues