الاعراف ۷
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۲۵
تدبر القرآن الاعراف ۷ اور ہم نے جنات اور انسان میں سے بہتوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے ۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ یہی لوگ ہیں غافل۔ اور اللہ کے لئے ہیں سب اچھے نام۔ پس انھیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں۔ وہ بدلہ پا کر رہیں گے اپنے کاموں کا۔ اور ہم نے جن کو پیدا کیا ہے ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو حق کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ اور میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں، بے شک میرا داؤ بڑا مضبوط ہے ۱۸۳- ۱۷۹ سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی خود پانا پڑتا ہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ اور کان دئے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کر کے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا، خواہ سچائی اس سے کتناہی زیادہ قریب موجود ہو۔ سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے لئے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگا رکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے لئے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے لئے کوئی سچائی سچائی نہیں۔ خدا کے بارے میں انسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کو مانتے ہوئے اپنے ذہن میں خدا کی غلط تصویر بنا لیتا ہے۔ وہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیتا ہے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں ۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کر کے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنا لینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کر لینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کر لینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہو رہی ہوں مگر وہ خدا وندی عدل سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں ۔
خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہو کر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنا دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues