Al-Risala · August 1981 · page 32

الاعراف ۷

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۳۲

ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے۔ وہ تو ایک صاف ڈرانے والا ہے۔ کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کے نظام پر نظر نہیں کی اور جو کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے ہر چیز سے اور اس بات پر کہ شاید ان کی مدت قریب آگئی ہو۔ پس اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔ جس کو اللہ بے راہ کر دے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ اور وہ ان کو سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ تم سے قیامت کی بابت پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا۔ کہو اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا۔ وہ بھاری ہو رہی ہے آسمانوں اور زمین میں۔ وہ جب تم پر آئے گی تو اچانک آ جائے گی۔ وہ تم سے پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی تحقیق کر چکے ہو۔ کہو اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ کہو میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لئے حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو محض ایک ڈرانے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں ان لوگوں کے لئے جو میری بات مانیں ۱۸۸ - ۱۸۴ با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتا ہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے۔ وہ ماحول میں چھپے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتا ہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان و مال سب کچھ قربان کر دیتا ہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتا ہے وہ ”مجنون“ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتا ہے۔ اس لئے خدا کے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں، نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہو گئے ہیں۔

خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کر رہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتا ہے جو زمین و آسمان میں اسی طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس لئے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر و قیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔

”قیامت کس تاریخ کو آئے گی“ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے ۔ جب یہ دنیا دار الامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہ کی زبان میں بتایا جائے گانہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page