برائی کا علامت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۳۳
برائی کا علامت
۱۳ مئی ۱۹۸۱ء کو دنیا کی سب سے زیاوہ گرما گرم خبر یہ تھی کہ ویٹیکن (اٹلی) کے پوپ جان پال دوم پر ایک شخص نے پستول سے قاتلانہ حملہ کیا۔ پوپ شدید طور پر زخمی ہوئے تاہم دہ بچ گئے۔ حملہ کرنے والا ایک ترک نوجوان محمد علی اغسا تھا۔ اس کو پولیس نے فوراً گرفتار کر لیا۔ پوچھ تاچھ کے دوران محمد علی اغسا نے بتایا کہ وہ مظلوم اور پس ماندہ قوموں کا حامی ہے۔ وہ دنیا کے ایک ایسے بڑے کو قتل کرنا چاہتا تھا جو سامراج کی علامت (Symbol of Imperialism) ہو۔ اس نے بتایا کہ اس نے پہلے برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ پھر یہ سوچ کر ان کو چھوڑ دیا کہ وہ ایک عورت ہے۔ اس کے بعد اس نے چاہا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر کرٹ والڈ ہائم کو قتل کرے۔ مگر وہ امریکہ میں رہتے ہیں اور امریکہ پہنچنے کے ذرائع اس کے پاس نہ تھے۔ بالآخر اس نے اٹلی کے پوپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ محمد علی اغسا ایک مخلص مسلمان ہے۔ وہ فرائض کا پابند ہے۔ وہ شراب اور سگریٹ اور سور کے گوشت سے مکمل پر ہیز کرتا ہے مظلوم انسانوں کا اس کو اتنا درد ہے کہ اس نے بستر پر سونا چھوڑ دیا ہے۔ وہ رات کے وقت کرسی پر بیٹھے بیٹھے اپنی میز پر سر رکھ کر تھوڑی دیر کے لئے سوتا ہے اور اس کے بعد اپنے کام میں مشغول ہو جاتا ہے ۔
ترک نوجوان کی یہ کہانی موجودہ زمانہ میں ہمارے بیشتر لیڈروں کی کہانی ہے۔ ہر ایک نے اپنے اپنے ذوق اور حالات کے لحاظ سے یہ کیا کہ کسی حکمران کسی لیڈر، کسی قوم یا کسی خاندان کو برائی کی علامت قرار دے لیا اور بس اس کو نیچا دکھانے یا اس کو ختم کرنے میں اپنی ساری طاقت لگا دی۔ ہمارے لیڈروں میں سے اکثر اس اعتبار سے کامیاب رہے کہ انھوں نے جس کو برائی کی علامت سمجھا تھا اس کی کسی نہ کسی طرح خاتمہ ہو گیا مگر اس کے باوجود برائی اپنی پوری طاقت کے ساتھ باقی رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ برائی کا بے حد ناقص اندازہ ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ کسی خاص شخص یا خاص گروہ میں مجسم ہوئی ہے۔ اس قسم کی چیز فوری شہرت اور قیادت حاصل کرنے میں ضرور کار آمد ہو سکتی ہے ، مگر اس قسم کی چیزوں سے کبھی برائی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ برائی کی جڑیں ہمیشہ اس سے بہت زیادہ دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں کہ ایک علامتی شخصیت کو ہلاک کر کے ان کا خاتمہ کیا جا سکے ۔ یہ دراصل سستا کریڈٹ لینے کی کوشش ہے اور سستا کریڈٹ خدا کی اس محکم کائنات میں کبھی کسی کو نہیں ملتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues