الاعراف ۷
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۳۲
تذکیر القرآن الانفال ۸ جیسا کہ تمھارے رب نے تم کو حق کے ساتھ تمھارے گھر سے نکالا۔ اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ اس حق کے معاملے میں تم سے جھگڑ رہ جائے تھے باوجودیکہ وہ ظاہر ہو چکا تھا، گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں آنکھوں دیکھتے۔ اور جب خدا تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک تم کو مل جائے گی۔ اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے۔ اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ حق کا حق ہونا ثابت کر دے اپنے کلمات سے اور منکروں کی جڑ کاٹ دے تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو کر رہے خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو ۵-۸ شعبان ۲ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے، اس قافلہ کے ساتھ تقریباً ۵۰ ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرنا تھا۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلہ تجارت پر حملہ کریں۔ چنانچہ قافلہ کے سردار ابو سفیان بن حرب نے تیز رفتار اونٹنی کے ذریعہ مکہ والوں کے پاس یہ خبر بھیجی کہ مدد کے لئے دوڑو ورنہ مسلمان تجارتی قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ مکہ میں اس خبر سے بڑا جوش پیدا ہو گیا۔ چنانچہ ۹۵۰ سوار جن میں ۱۰۰ زرہ پوش تھے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام خبریں مل رہی تھیں ۔ اب مدینہ کے مسلمان دو گروہوں کے درمیان تھے۔ ایک شام سے آنے والا تجارتی قافلہ۔ دوسرا مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھنے والا جنگی لشکر۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جائے ۔ اس قافلہ کے ساتھ بمشکل ۴۰ محافظ تھے۔ اس کو با آسانی مغلوب کر کے اس کے سامان پر قبضہ کیا جا سکتا تھا۔ مگر خدا کا منصوبہ دوسرا تھا۔ خدا کو دراصل منکرین حق کا زور توڑنا تھا نہ کہ کچھ اقتصادی فائدہ حاصل کرنا۔ خدا نے مخصوص حالات پیدا کر کے ایسا کیا کہ تمام مخالف سرداروں کو مکہ سے نکالا اور ان کو مدینہ سے ۲۰ میل کے فاصلہ پر بدر کے مقام پر پہنچا دیا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ٹکرا کر ہمیشہ کے لئے ان کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اللہ کے رسول نے جب مسلمانوں کو خدا کے اس منصوبہ سے مطلع کیا تو سب کے سب نفق ہو کر بدر کی طرف بڑھے۔ ان کی تعداد اگرچہ صرف ۳۱۳ تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ مگر اللہ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے قریش کے لشکر کو بری طرح شکست دی۔ ان کے ستر سردار قتل ہوئے اور ستر گرفتار کر لئے گئے۔ بدر کا میدان کفر کے مقابلہ میں اسلام کی فتح کا میدان بن گیا۔ جب بھی ایسا ہو کہ ایک طرف مادی فائدہ ہو اور دوسری طرف دینی فائدہ تو یہ تقسیم خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی مرضی دینی فائدہ کی طرف ہے نہ کہ مادی فائدہ کی طرف۔
اسلامی جدوجہد کا نشانہ کبھی معاشی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسلامی جدوجہد کا نشانہ ہمیشہ باطل کا زور توڑنا ہوتا ہے ۔ خواہ وہ نظریاتی طاقت کے ذریعہ ہو یا حالات کے اعتبار سے مادی طاقت کے ذریعہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues