جا پڑو پھر اپنے کئے پر کم کو پچھتاوا ہو
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۴۰
مسلم یونیورسٹی کا یہ واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے جس میں ان تمام سرگرمیوں کی تصویر دیکھی جاسکتی ہے جو ہمارے یہاں ملت کے نام پر جاری ہیں۔ نیز اسی مثال سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ ہماری ملی سرگرمیاں اپنی ساری دھوم کے باوجود اس قدر نا کام کیوں ہیں ۔
۱۔ مسلم یونیورسٹی کا یہ ایجی ٹیشن پروفیسر عرفان حبیب کے ایک انٹرویو کے نام پر شروع کیا گیا۔ اس ایجی ٹیشن میں حصہ لینے اور اس کی حمایت کرنے والوں کی تعداد لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔ مگر آپ جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یونیورسٹی کے اندر اور یونیورسٹی کے باہر بہت ہی تم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس انٹرویو کو انگریزی میں مکمل طور پر پڑھا ہے۔ زیادہ تر لوگ بس سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر اس کے خلاف مجاہد بنے ہوئے ہیں۔ یہ قرآن کے اس حکم کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے کہ :
یا ایھا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبا اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لے کر آئے فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا تو اس کی تحقیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم پر نادانی سے علی ما فعلتم نادمین (حجرات (۶)
جا پڑو پھر اپنے کئے پر کم کو پچھتاوا ہو
۲۔ پروفیسر موصوف نے جو کچھ کیا تھا وہ صرف ایک اخباری مضمون کی اشاعت تھی۔ مگر اس کے جواب میں جو کچھ کیا گیا وہ مار پیٹ، ہنگامہ اور توڑ پھوڑ تھا۔ یہ بھی قرآن کے اس حکم کی خلاف ورزی تھی کہ : والذین اذا اصابہم البغی ھم ینتصرون و اور وہ لوگ کہ جب ان پر سرکشی کی جائے تو وہ بدلہ لیتے جزاء سيئة سيئة مثلھا (شوری ۴۰)
ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی
۳۔ پروفیسر موصوف کا انٹرویو یونیورسٹی کے نظم ونسق کے بارے میں تھا۔ اس اعتبار سے یہ ایک عام تعلیمی بات تھی مگر اس کو غلط طور پر اسلام اور کفر کا مسئلہ بنا دیا گیا۔ یہ اپنی دنیوی سیاست کے لئے دین کا نعرہ استعمال کرنا تھا۔ اس اعتبار سے یہ قرآن کے اس حکم کی خلاف ورزی تھی جس میں کہا گیا ہے:
ولا تشتروا بأياتى ثمنا قليلا (بقره (۴۱)
اور میری آیتوں پر تھوڑی پونجی نہ خریدو
۴۔ پروفیسر موصوف نے جو بات کہی تھی وہ یہ تھی کہ یونیورسٹی میں انتظام اور تعلیم کا معیار بہت گر گیا ہے ۔ اس کا صحیح جواب یہ تھا کہ خاموش تعمیری جدوجہد کے ذریعہ انتظام اور تعلیم کے معیار کو بلند کر دیا جاتا۔ یہ مذکورہ بیان کی نہایت کامیاب تردید ہوتی۔ اس کے برعکس شور وغل اور ہنگامہ مہ بازی شروع کر دی گئی۔ یہ قرآن کے الفاظ میں ایسے کام کا کریڈٹ لینا تھا جس کو آدمی نے کیا نہیں۔ یہ حضرات اپنے آپ کو یونیورسٹی کے خادم کی حیثیت سے پیش کر رہے تھے۔ حالانکہ یونیورسٹی کی جو اصل خدمت تھی اس کو انھوں نے انجام ہی نہیں دیا۔ ایسے لوگوں کو قرآن کے اس انتباہ سے ڈرنا چاہئے: لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا ويحبون ان جو لوگ اپنے کئے پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ انھوں نے جو یحمدوا بما لم يفعلوا فلا تحسبنهم بمفازة من العذاب کچھ نہیں کیا اس پر ان کی تعریف ہو تو ان کو تم عذاب سے ولهم عذاب اليم (آل عمران (۱۸۸) بچاؤ میں نہ سمجھو اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues