Al-Risala · August 1981 · page 41

طبیعیات سے مابعدالطبیعیات کی تصدیق

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۴۱

طبیعیات سے مابعدالطبیعیات کی تصدیق

لندن سے ایک انسائیکلوپیڈیا چھپی ہے جس کا نام ہے ” قاموس جہالت“ اس میں ساٹھ مشہور سائنسداں مختلف علمی شعبوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انسان کن چیزوں کے بارے میں ابھی تک لا علم ہے۔ یہاں ان میں سے دس مختلف سائنس دانوں کا بیان نقل کیا جاتا ہے انھوں نے اپنے تحقیقی شعبوں کے بارے میں بتایا ہے کہ ان کے شعبہ کی واحد سب سے بڑی نامعلوم حقیقت کیا ہے۔

۱۔ کائنات اتنی یکساں کیوں

آئن رکسبرگ ،پروفیسر تطبیقی ریاضیات کوئین میری کالج ،لندن : کائنات تعجب خیز حد تک یکساں ہے۔ ہم خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں، کائنات کے اجزاء میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کئے گئے ہیں، وہ تحکمی اعداد پر مشتمل ہیں جیسے کسی الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ سے جو کہ تقریباً ۳۰ ا۸ کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا ایک خالق نے محکمی طور پر انھیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ کیا کائنات کے وجود کے لئے ان اعداد میں وہی مناسب قدر ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں ۔

۲۔ کیا کوئی ژڈ ذرہ ہے

عبدالسلام ، پروفیسر نظری طبیعیات ، امپیریل کالج ، لندن: اگلے دس برسوں میں ہمیں یا تو ژڈ ذرہ کا وجود تسلیم کرنا ہے یا یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔ اگر اس کا وجود ثابت ہو گیا جیسا کہ موجودہ نظریہ کی پیشین گوئی ہے تو اس کے بعد عالم فطرت کی چار طاقتیں جن کا ہمیں علم ہے ان میں سے دو طاقتوں کا ایک ہونا ثابت ہو جائے گا۔ یہ چار طاقتیں یہ ہیں: کشش، برقی مقناطیسیت، طاقت ڈرنیو کلیئر فورس جو کہ ایٹم کے نیوکلیس کو آپس میں باندھے رہتی ہے، اور کمزور نیوکلیئر فورس جور یڈیائی لہروں سے متعلق ہے)۔ پروفیسر عبد السلام اور دوسرے سائنس دانوں نے حال میں کمزور نیوکلیئر فورس اور برقی مقناطیسیت کو ایک ثابت کرنے میں کچھ کامیابی حاصل کی ہے۔ ژڈ ذرہ کی دریافت سے قوی تجرباتی تائید حاصل ہوگی۔ ۳۔ ڈی این اے سے پہلے کیا تھا ڈاکٹر گر کیرنس سمتھ، لکچرر کیمسٹری ، گلاسگو یونیورسٹی : ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک نیا اہم

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page