Al-Risala · August 1981 · page 23

۹۔ دماغ کے مختلف حصے کس طرح رابطہ قائم کرتے ہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳

یہ نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ، اکثر حالات میں نا قابل پیمائش حد تک نچلی سطح پر ارتقاءء کے عمل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ اس طرح ہم تین طریقوں سے واقف ہیں جن کے متعلق ہمارا یقین ہے کہ وہ ارتقا کے عمل کا تعین کرتے ہیں۔ پھر ہمارے پاس ایک ریاضیاتی نظریہ ہے جو ہم کو بتاتا ہے کہ یہ تینوں طریقے ایسی سطحوں پر اپنا اثر ڈالتے ہیں جن کی بالواسطہ پیمائش کی ہم امید نہیں رکھتے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہمارے پاس برقی مقناطیسیت کا ایک نظریہ تو ہو مگر ہمارے پاس نہ تو برقی لہروں کو ناپنے کا کوئی ذریعہ ہو اور نہ مقناطیسی زور کو ناپنے کا۔ ۷۔ نظام عصبی کس طرح بنتا ہے فرانسس کریک ، سالک انسٹی ٹیوٹ، کیلی فورنیا : حیاتیاتی ترقیات میں شاید سب سے بڑا علمی چیلنج یہ سوال ہے کہ ایک جاندار میں عصبی نظام کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے۔ بہت سال پہلے راجرا سپری نے تجربہ کر کے دکھایا تھا کہ اگر ایک دریائی چھپکلی کی آنکھ اس طرح نکالی جائے کہ اس کی نظر کی نس آنکھ سے دماغ تک ٹوٹ جائے ۔ اس کے بعد اگر اس کی آنکھ کو دوبارہ الٹ کر بھی لگا دیا جائے تو نظر کی نس آنکھ کے پردے سے دوبارہ شروع ہو کر دماغ کی طرف بڑھے گی اور دوبارہ اس سے جڑ جائے گی۔ کچھ عرصہ کے بعد جانور اس آنکھ سے دوبارہ دیکھ سکتا تھا۔ مگر ہمیشہ الٹی شکل میں کیونکہ آنکھ الٹی لگی ہوئی تھی ) دوسرے لفظوں میں یہ کہ نیا تعلق بالکل درست تھا۔ بجز اس کے کہ آنکھ کو یہ پتہ نہ تھا کہ وہ الٹی لگی ہوئی ہے۔ یہ نتائج بتا رہے ہیں کہ اعصاب کے ایک نظام کو اعصاب کے دوسرے نظام سے ٹھیک ٹھیک مربوط کرنے کے لئے بہت ہی درست اور پیچیدہ طریقے کار فرما ہوتے ہیں۔ مگر یہ طریق عمل کیا ہے ، اس کو ہم متعین طور پر نہیں جانتے۔ (دوسرے لفظوں میں خود یہ واقعہ کہ آنکھ الٹی لگی تھی، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ رابطے کس قدر متعین ہوتے ہیں)

۸۔ کوانٹم نظریہ کیا کشش کے نظریہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے سر ہر من بوندی ، چیف سائنٹسٹ ، شعبہ انرجی : اگر ہم آئن سٹائن کے مقبول عام نظریہ کشش کو مانیں تو کسی مقناطیسی میدان کے مرکز میں یکایک تبدیلی (مثلاً دوستاروں میں ) جو ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے ہوں) سے ایسا ہونا چاہئے کہ کشش کی لہریں روشنی کی سی رفتار سے پیدا ہوں۔ ریڈی ایشن کی دوسری صورتیں ”کوانٹم“ کے مطابق ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلسل نہیں ہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی مقداروں کی شکل میں غیر مسلسل طور پر آتی ہیں۔ یہ بات بمشکل قابل فہم ہے کہ کشش کی لہریں مقداروں کی شکل میں نہیں ہوتیں۔ مگر ابھی تک کوئی اس بات کو ثابت نہیں کر سکا ہے، حالاں کہ بہت سے لوگ اس کی کوشش کر چکے ہیں۔

۹۔ دماغ کے مختلف حصے کس طرح رابطہ قائم کرتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page