Al-Risala · August 1981 · page 42

۴۔ جین کس طرح متحرک اور غیر متحرک ہوتے ہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۴۲

جینیٹک مادہ دریافت کریں جو ڈی این اے سے بالکل مختلف ہو۔ (ڈی این اے کا دہر اغولہ نما ڈھانچہ کیمبرج میں ۱۹۵۳ء میں فرانسس کریک اور جیمیں واٹسن نے دریافت کیا تھا مجھے یقین نہیں کہ ڈی این اے ابتدائی جین پر بن سکتا تھا۔ ضروری ہے کہ زندگی کسی اور چیز سے شروع ہوئی ہو اور ڈی این اے کا ارتقا بعد کو ہوا ہو۔

۴۔ جین کس طرح متحرک اور غیر متحرک ہوتے ہیں

سرحان کینڈریو، چیروپن یور و بین مائے کیولر بیالوجی آرگنائزیشن، ہائڈلبرگ : جین کس طرح بیکٹیریا میں متحرک اور غیر متحرک ہوتے ہیں، ان کی بابت ہم کسی قدر جانتے ہیں۔ مگر اعلیٰ حیوانات میں یہ واقعہ کیونکر ہوتا ہے، اس کی بابت ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ زمین کے متحرک اور غیر متحرک ہونے ہی کی وجہ سے ایک جسم کے سل، جو سب کے سب ایک قسم کے جین پر مشتمل ہوتے ہیں، وہ مختلف قسم کے عمل کر پاتے ہیں اور نسوں، جلد وغیرہ کے اجزائے ترکیبی بن جاتے ہیں)

۵۔ ہمارے اندر محفوظ نظام کیوں

جسم کا مانعی نظام ہم کو چھوت سے بچاتا ہے۔ یہی ہمارے اندر الرجی کا سبب ہے، اور اعضا کی پیوند کاری کو اس قدر مشکل بنا دیتا ہے۔ مگر ایڈنبرا یونیورسٹی کے ڈاکٹر میکلم کے نزدیک "سب سے زیادہ دلچسپ سوال یہ نہیں ہے کہ یہ مانعی نظام کیسے کام کرتا ہے، بلکہ یہ کہ خود اس کا وجود ہی کیوں ہے۔ بے ریڑھ کے جانور اس کے بغیر بھی اچھی طرح گزر کر لیتے ہیں۔ مگر ریڑھ دار حیوانات میں یہ نظام ناقابل یقین حد تک پیچیدگی کے ساتھ شامل ہے۔ پچھلے دس سالوں سے اس خیال کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے کہ اس نظام کی ضرورت اس لئے تھی کہ خلیہ کی سطح میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں جو سرطان کا سبب بن سکتی ہیں، ان کا پتہ لگایا جا سکے ، مگر بہت سی حالیہ دریافتیں اس کی تائید کرتی ہوئی نظر نہیں آئیں۔

۶۔ ارتقار کی پیمائش ہم کیسے کریں

جان مینڈ سمتھ ، پر وفیسر حیاتیات، سیسکس یونیورسٹی کا خیال ہے کہ ارتقا ر کا نظریہ ایک ناقا بل حل اندرونی مسئلہ سے دوچار ہے ۔ نظریہ ارتقار کے تین حقیقی اجزاء ہیں :

تغیر ( جین میں تبدیلی کا واقع ہونا )

انتخاب (فرق کا باقی رہنا یا مختلف اقسام کی زرخیزی نقل مکانی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page