Al-Risala · September 1981 · page 4

عید الفطر

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴

اسلام کے نزدیک آدمی کی زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ ایک موت سے پہلے اور دوسرا موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عمل کرنے کا مرحلہ ہے اور موت کے بعد کا مرحلہ اپنے عمل کا انجام پانے کا مرحلہ ۔ موت سے پہلے پابند اور ذمہ دار زندگی گزارنا ہے اور موت کے بعد اس کے انعام کے طور پر ایسی زندگی ملے گی جس میں آدمی ہر طرح آزاد اور خوش حال ہوگا۔ روزہہ کا مہینہ موت سے پہلے کی زندگی کی علامت ہے اور عید الفطر کا دن موت کے بعد کی زندگی کی علامت۔

موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی کو جو کچھ کرنا ہے وہ یہ کہ وہ خدا کی مرضی کا پابند ہو کر زندگی گزارے۔ وہ جو کچھ کرے جائز دائرہ میں کرے، خدا کے منع کئے ہوئے دائرہ میں داخل نہ ہو۔ مثلاً وہ سچ بولے اور جھوٹ نہ بولے ۔ وہ محنت کی کمائی کھائے اور لوٹ کھسوٹ کے طریقوں سے بچے ۔ دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں وہ ہمیشہ انصاف برتے اور بے انصافی کا طریقہ کبھی اختیار نہ کرے۔ اس کے دل میں لوگوں کے لئے محبت اور خیر خواہی ہو نہ کہ بغض اور حسد۔

روزہ اسی پابند زندگی کی مشق ہے، وہ آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ اس دنیا میں اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنا ہے نہ کہ غیر ذمہ دارانہ زندگی ۔ روزہ میں آدمی خدا کے حکم سے کھانا پانی چھوڑ دیتا ہے ۔ اپنے معمولات کو بدل دیتا ہے، اپنی خواہشوں پر روک لگاتا ہے۔ اپنی مرضی پر چلنے کے بجائے اپنے آپ کو خدا کی مرضی کا پابند بناتا ہے ۔ اس طرح مسلسل ایک ماہ تک وہ اپنے آپ کو ایک پر مشقت کورس سے گزارتا ہے۔ یہ روزہ کی صورت میں اس پابند زندگی کا ایک علامتی سبق ہے جو آدمی کو موجودہ دنیا میں اپنی زندگی میں نباہنا ہے۔ رمضان میں ایک مہینہ تک اس قسم کی پابند زندگی گزارنے کے بعد یکم شوال کو عید الفطر کا دن آتا ہے جب کہ ساری پابندیاں ختم کردی جاتی ہیں اور آدمی آزاد ہوتا ہے کہ وہ خوشیوں اور راحتوں کا دن منائے۔ روزہ کے مہینہ میں اگر اس کو موت سے پہلے کی زندگی کا سبق دیا گیا تھا تو عید الفطر کے دن اس کو موت کے بعد کی زندگی کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ روزہ مسلمان کی دنیوی زندگی کی تمثیل ہے اور عید الفطر مسلمان کی آخرت کی زندگی کی تمثیل۔

روز کا مہینہ اور اس کے فوراً بعد عید الفطر آدمی کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر اس نے موجودہ دنیا میں خدا کے حکموں کے مطابق پابند زندگی گزاری تو اگلی دنیا میں اس کو خوشی اور آزادی کی پر بہار جنتوں میں داخل کیا جائے گا۔ اس کے بعد نہ اس پر کوئی پابندی ہوگی اور نہ کسی قسم کی تکلیف۔

نوٹ: یہ تقریر ۳ اگست ۱۹۸۱ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page