حساب سے پہلے حساب
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۴۰
گیارّه خدا کے دوست عن ابی هریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلى الله علیه وسلم :
ان الله تعالیٰ قال: ۔ من عادى لی ولیاً فقد آذنتہ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشیئ احب الی مما افترضته علیه ولا یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتى احبّه فاذا احببته كنت سمعه الذی یسمع به وبصره الذی یبصر به ویده التي یبطش بها ورجله التي یمشی بها ولئن سألنی لا عطینّه ولئن استعاذنی لاعیذنہ (بخاری)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو میرے کسی دوست کے ساتھ دشمنی کرے تو میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیتا ہوں ۔ میری سب سے زیادہ محبوب چیز جس سے میرا بندہ میری قربت حاصل کرتا ہے وہ ہے جو میں نے اس کے اوپر فرض کی ہے۔ اور میرا بندہ نفل اعمال کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔ اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور اس کو دیتا ہوں اگر وہ میری پناہ چاہے تو میں ضرور اس کو پناہ دیتا ہوں۔
اللہ تعالی نے کچھ چیزیں بندوں کے اوپر فرض کی ہیں مثلاً پانچ وقت کی نماز، سال میں مقرر شرح سے زکوٰۃ، جائز حدود میں کمائی وغیرہ۔ مگر آدمی کا تعلق جب اللہ سے بڑھتا ہے تو اس کا عمل فرض کے دائرہ میں محدود نہیں رہتا۔ اللہ کی طرف بڑھی ہوئی توجہ اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ حد سے آگے بڑھ کر عمل کرے۔ وہ پانچ وقتوں کے علاوہ اوقات میں بھی اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے۔ وہ مقررہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ وہ اللہ کے کام میں اتنا مشغول ہوتا ہے کہ جائز حدود میں کمائی کرنے کا موقع بھی اس کے لئے باقی نہیں رہتا۔ کوئی آدمی جب اپنے کو اللہ میں اس طرح شامل کرتا ہے تو اس کے بعد اس کا پورا وجود اللہ میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ شعور کی اس سطح پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کا شعور اللہ کے شعور سے الگ نہیں رہتا۔ معاملات کا تجزیہ کرنا، معاملات کے بارے میں رائے قائم کرنا، معاملات میں تدبیریں اختیار کرنا، غرض اس کا ہر عمل سنت الہی کے مطابق ہو جاتا ہے۔ اللہ کا جو بندہ اپنے آپ کو اس طرح اللہ میں شامل کرلے وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے۔ اللہ اس کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جو دوست کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ایسا بندہ خدا خواہ بظاہر کمزور ہو مگر اس کی پشت پر خدا کھڑا ہوتا ہے اس سے لڑنا خدا سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ وہ اپنے فہم اور ذوق کے اعتبار سے ایسا بن جاتا ہے کہ خدا سے وہی چیز مانگے جو اس سے مانگنے کی ہے۔ اس لئے جب وہ مانگتا ہے تو خدا ضرور اس کی مانگ کو پورا کرتا ہے۔ وہ اس سے اسی چیز کی پناہ چاہتا ہے جس کی پناہ کے لئے خدا سے درخواست کرنا چاہئے، اس لئے جب وہ خدا سے پناہ مانگتا ہے تو خدا ضرور اس کو اپنی پناہ عطا کرتا ہے۔ ں سے چوبھی) ۔ ہرچند کہ اس نہر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues