Al-Risala · January 1981 · page 39

حساب سے پہلے حساب

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۳۹

حساب سے پہلے حساب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں اپنا حساب کر لو، اس سے پہلے کہ آخرت میں تمھار احساب کیا جائے (حاسبو ا انفسکم قبل ان تحاسبوا) مرنے کے بعد تمام لوگ آخرت میں خدا کی عدالت میں کھڑے کئے جانے والے ہیں ، خدا کی عدالت عالم الغیب کی عدالت ہے۔ وہاں کوئی شخص اپنی کسی بات کو چھپا نہ سکے گا۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ خدا کے یہاں جس کی جانچ ہو گئی وہ ہلاک ہونے سے بچ نہیں سکتا ( من نوقش فقد ھلک ) عقل مند وہ ہے جو آخرت میں خدا کی عدالت میں کھڑا ہونے سے پہلے دنیا میں اپنے کو اپنی ضمیر کی عدالت کے سامنے کھڑا کر لے اور حساب کتاب پیش آنے سے پہلے اپنے کو درست کر لے جو شخص اپنا حساب کئے بغیر مر جائے گا ، اس کا حساب خدا کرے گا۔ اور جس کا حساب خدا کرے اس کو کون بچا سکتا ہے ۔

آدمی کو پیدائشی طور پر ضمیر دیا گیا ہے جو اس کو ہر بری بات پر ٹوکتا ہے۔ آدمی کے پاس خدا اور رسول کی باتیں پہنچتی ہیں جن سے وہ صحیح اور غلط میں تمیز کر سکتا ہے، اسی ضمیر اور اسی علم کی روشنی میں اپنے کو جانچنے کا نام اپنا حساب آپ کرنا ہے۔

آپ کے ساتھ کوئی شخص غلط سلوک کرے ، کسی سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو فوراً آپ کے دل کو چوٹ لگتی ہے۔ آپ اس کو ذلیل اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ کی نظر میں اس سے زیادہ برا اور کوئی شخص نہیں ہوتا۔ مومن وہ ہے جس کے اندر یہي شدت احساس خود اپنی غلطیوں کے بارہ میں پیدا ہو جائے ۔ اس سے کوئی غلطی ہو تو فوراً وہ جان لے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ اپنی غلطیوں کو جاننے کے لئے وہ اتنا ہی حساس ہو جائے جتنا کوئی شخص دوسرے کی غلطیوں کو جاننے کے لئے ہوتا ہے۔ غلطی سرزد ہوتے ہی وہ تڑپ اٹھے کہ مجھ سے ایسا فعل ہو گیا جو مجھ کو خدا سے دور کر دینے والا ہے۔ جو مجھ کو آخرت میں بے قیمت بنا دینے والا ہے۔ اس کا یہ احساس اتنا شدید ہو کہ اپنا وجود اس کو اپنی نظر میں حقیر معلوم ہونے لگے۔ اپنے احتساب کے لئے وہ اس سے زیادہ بے رحم ہو جائے جتنا کوئی شخص اپنے دشمن کے احتساب کے لئے ہوتا ہے۔

ایسے ہی لوگ اللہ والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے ہاتھ بیچ دیا تا کہ ان کے لئے اللہ کے یہاں جنت ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس قسم کی متقیانہ زندگی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی دنیا میں جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کا رب ان سے ملاقات کے عظیم دن کہے گا کہ آج تمھارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ ان کے لئے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے اور خدا کی طرف سے پکارنے والا پکارے گا : ابدی باغوں میں بنے ہوئے جنتی مکانات آج تمھاری وراثت میں دے دیئے گئے۔ جس دروازہ سے چاہو اس میں داخل ہو جاؤ۔ آج کے بعد نہ تمھارے لئے کوئی غم ہے اور نہ تکلیف۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page