Al-Risala · September 1981 · page 18

Dead men tell no tales, but their ashes may

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۸

تذکیر القرآن الانفال ے جب تم ابنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمھاری فریاد سنی کہ میں تمھاری مدد کے لئے ایک ہزار فرشتے لگاتار بھیج رہا ہوں۔ اور یہ اللہ نے صرف اس لئے کیا کہ تمھارے لئے خوش خبری ہو اور تاکہ تمھارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں ۔ اور مدد تو اللہ ہی کے پاس سے آتی ہے۔ یقیناً اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ جب اللہ نے تم پر اونگھ ڈال دی اپنی طرف سے تمھاری تسکین کے لئے اور آسمان سے تمھارے اوپر پانی اتارا کہ اس کے ذریعہ سے تمھیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی نجاست کو دور کر دے اور تمھارے دل کو مضبوط کر دے اور اس سے قدموں کو جما دے ۔ جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، تم ایمان والوں کو جمائے رکھو۔ میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ پس تم ان کی گردن کے اوپر مارو اور ان کے پور پور پر ضرب لگاؤ۔ یہ اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ سزا دینے میں سخت ہے۔ یہ تو اپ چکھو اور جان لو کہ منکروں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔ ۹-۱۴۔

بو کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف ۳۱۳ تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ دشمنوں نے مقام جنگ (بدر) پر پہلے پہنچ کر وہاں اچھی جگہ اور پانی کے چشمے پر قبضہ کر لیا۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے لئے وہ اپنا زندگی ویران کر رہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا، کیوں اسباب کے تمام سرے ان کے ہاتھ سے نکل کر دشمنوں کی طرف چلے جاتے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا کر بارش کا پانی جمع کر لیا۔ دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پانی سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے لئے آسمان سے پانی کا انتظام کر دیا۔ اسی طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کر دی ۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے لئے بہت ضروری ہے۔ مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کر دی ۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سو گئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے ــــــــ جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کر دیئے کہ ان کے اندر نیا یقین در اعتماد ابھر آیا۔

مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بددل نہیں ہونا چاہئے۔ اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنان حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہو جائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچا سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page