Dead men tell no tales, but their ashes may
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹
اے ایمان والو، جب تمھارا مقابلہ منکرین سے میدان جنگ میں ہو تو ان سے پیٹھ مت پھیرو۔ اور جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری، سوائے اس کے کہ جنگی چال کے طور پر ہو یا دوسری فوج سے جاننے کے لیے، تو اللہ کے غضب میں آ جائے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے ۱۶ - ۱۵ اسلام اور غیر اسلام کا ٹکراؤ جب جنگ کے میدان تک پہنچ جائے تو یہ گویا دونوں فریقوں کے لیے آخری فیصلہ کا وقت ہوتا ہے۔ ایسے نازک لمحہ میں اگر کوئی شخص یا گروہ ایسا کرے کہ عین معرکہ کے وقت وہ میدان چھوڑ کر بھاگے تو اس نے بدترین جرم کیا۔ ایک طرف اس نے حق کو بچانے کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بچانے کو زیادہ اہم سمجھا، اس نے اپنے مقصد کے مقابلہ میں اپنی ذات کو ترجیح دی۔ اور یہ سب کچھ اس نے اس وقت کیا جب کہ اس حق کی زندگی کی بازی لگی ہوئی تھی جس کو اعلیٰ ترین صداقت قرار دے کر وہ اس پر ایمان لایا تھا۔ دوسرے یہ کہ ایسے نازک موقع پر اکثر ایک چھوٹا سا واقعہ بہت بڑے واقعہ کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک شخص یا ایک گروہ کا میدان چھوڑ کر بھاگنا پوری فوج کا حوصلہ توڑ دیتا ہے۔ ایک شخص کی جھگڑ بالا خر عام جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ اور ہنگامی حالات میں جب کسی مجمع میں عام جھگڑا شروع ہو جائے تو وہ اپنی آخری حد پر پہنچنے سے پہلے کہیں نہیں رکتی۔
اس سے مستثنیٰ صرف وہ صورت ہے جب کہ کوئی سپاہی یا سپاہیوں کا کوئی دستہ کسی جنگی تدبیر کے لیے پیچھے ہٹتا ہے یا وہ اپنے ایک مورچہ سے ہٹ کر کسی دوسرے مورچہ کی طرف سمٹنا چاہتا ہے۔ فرار کے طور پر اگر وہ کوئی پیچھے ہٹتا ہے تو وہ بلاشبہ ناقابل معافی جرم کرتا ہے۔ مگر جو پیچھے ہٹنا تدبیر جنگ سے تعلق رکھتا ہو وہ جائز ہے ۔ اس کے لئے آدمی پر کوئی الزام نہیں۔
مذکورہ حکم اصلاً جنگ سے متعلق ہے۔ تاہم دوسری مشابہ صورتیں بھی درجہ بدرجہ اسی کے ذیل میں آسکتی ہیں، مثلاً ایک شخص بے آمیز اسلام کے خاموش اور تعمیری عمل کی طرف لوگوں کو پکارے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد جب وہ دیکھے کہ اس کی دعوت لوگوں میں زیادہ مقبول نہیں ہو رہی ہے تو وہ بے صبری کا شکار ہو جائے اور خاموش تعمیر کے محاذ کو چھوڑ کر ایسے اسلام کی طرف دوڑ پڑے جس کے ذریعہ عوام میں بہت جلد شہرت اور مرتبہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جنگ کے میدان سے بھاگنا شعور اور ارادہ کے تحت ہوتا ہے۔ مگر جنگی میدان کے باہر جو معرکہ جاری ہے اس سے ”بھاگنا‘‘، ایک غیر شعوری واقعہ ہے۔ آدمی طبعی طور پر نتیجہ پسند واقع ہوا ہے۔ وہ اپنے کام کا اعتراف چاہتا ہے۔ اس کا یہ مزاج غیر شعوری طور پر اس کو ان کاموں سے ہٹا دیتا ہے جن میں فوری نتیجہ نکلتا ہوا نظر نہ آتا ہو۔ وہ اپنے اندر کام کرنے والے غیر شعوری اثرات کے تحت ان چیزوں کی طرف کھنچ اٹھتا ہے جن میں بظاہر یہ امید ہو کہ فوراً عزت و کامیابی حاصل ہو جائے گی ۔ اس قسم کا انحراف اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی نوعیت کی چیز ہے جس کو مذکورہ آیت میں میدان مقابلہ سے بھاگنا کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues