Al-Risala · September 1981 · page 30

Dead men tell no tales, but their ashes may

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

پس ان کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا۔ اللہ جب تو نے ان پر خاک پھینکی تو تم نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی تاکہ اللہ اپنی طرف سے ایمان والوں پر خوب احسان کرے۔ بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ یہ تو ہو چکو۔ اور بے شک اللہ منکرین کی تمام تدبیریں بے کار کر کے رہے گا۔ اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو فیصلہ تمھارے سامنے آگیا۔ اور اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور تمھارا جتھا تمھارے کچھ کام نہ آئے گا خواہ وہ کتنا ہی زیادہ ہو۔ اور بے شک اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے (۱۹ - ۱۹-۱۷ روایات میں آتا ہے کہ جب بدر کا معرکہ گرم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے: یارب ان تھلک ھذہ العصابة فلن تعبد في الارض ابداً (اے میرے رب، اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو کبھی زمین پر تیری پرستش نہ ہوگی پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر خاک لی اور اس کو مشرکین کی طرف پھینکتے ہوئے کہا شاھت الوجوہ (چبہرے بگڑ جائیں) اس کے بعد کافروں کے لشکر کا یہ حال ہوا جیسے سب کی آنکھوں میں ریت پڑگئی ہو۔ چنانچہ مسلمانوں نے نہایت آسانی سے جس کو چاہا قتل کیا اور جس کو چاہا گرفتار کر لیا۔ یہ اللہ تعالی کا قاعدہ ہے کہ وہ اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ ان کے دشمن خواہ کتنی ہی سازشیں کریں وہ ان کی سازشوں کو اپنی تدبیروں سے بے اثر کر دیتا ہے۔ وہ ان کا مغلوب کر کے اہل ایمان کو ان کے اوپر غالب کر دیتا ہے۔ مگر ایسا کب ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اہل ایمان اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ میں اس طرح ملا دیں کہ خدا کی منشا اور اہل ایمان کی منشا دونوں ایک ہو جائے۔ جب بندہ اس طرح اپنے آپ کو خدا کے مطابق کر لیتا ہے تو جو کچھ خدا کا ہے وہ اس کا ہو جاتا ہے کیونکہ جو کچھ اس کا ہے وہ خدا کو دے چکا ہوتا ہے۔

بدر کے لئے روانگی سے پہلے مکہ کے سردار بیت اللہ گئے اور کعبہ کے پردہ کو پکڑ کر یہ دعا کی: خدایا اس کی مدد کر جو دونوں لشکروں میں سب سے اعلیٰ ہو، جو دونوں گروہوں میں سب سے معزز ہو، جو دونوں قبیلوں میں سب سے بہتر ہو۔ (اللھم انصر اعلی الجندين واكرم الفئتين وخير القبيلتين) بدر کی لڑائی میں سرداران مکہ کو کامل شکست اور اہل ایمان کو کامل فتح ہوئی۔ اس طرح خود سرداران مکہ کے معیار کے مطابق یہ ثابت ہو گیا کہ خدا کے نزدیک اعلیٰ واشرف گروہ وہ نہیں ہیں بلکہ اہل اسلام ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ جو لوگ ایسا کریں ان کے لئے آخرت میں سخت ترین عذاب ہے اور اسی کے ساتھ دنیا میں بھی۔

دونوں میں جو سب سے اعلیٰ اور سب سے اشرف ہو اس کو فتح دے‘‘ یہ بظاہر دعا تھی مگر حقیقتاً وہ اپنے قلبی میں پر فخر اعتماد کا اظہار تھا۔ اس کے پیچھے ان کی یہ نفسیات کام کر رہی تھی کہ ہم کعبہ کے پاسبان ہیں، ہم ابراہیم واسماعیل سے نسبت رکھنے والے ہیں۔ جب ہمارے ساتھ اتنی بڑی فضیلتیں جمع ہیں تو جیت ہر حال ہماری ہونی چاہئے۔ مگر خدا کے یہاں ذاتی عمل کی قیمت ہے نہ کہ خارجی انتسابات کی۔ خارجی انتساب خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو آدمی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page