Al-Risala · September 1981 · page 22

Dead men tell no tales, but their ashes may

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲

تذکیر القرآن الانفال ۸ اے ایمان والو، اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تم کو اس چیز کی طرف بلا رہا ہے جو تم کو زندکہ دینے والی ہے ۔ اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ۔ اور یہ کہ اسی کی طرف تمھارا اکٹھا ہونا ہے۔ اور ڈرو اس فتنے سے جو خاص تمھیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۲۵ - ۲۴ "زندگی کی پکار" سے مراد یہاں جہاد کی پکار ہے۔ یعنی حق کو دوسروں تک پہنچانے کی جدوجہد۔ یہ جد وجہد ابتداؤ زبان و قلم کے ذریعہ تلقین کی صورت میں شروع ہوتی ہے۔ مگر مدعو کا مخالفانہ رد عمل اس کو مختلف مراحل تک پہنچا دیتا ہے، حتیٰ کہ ہجرت اور جنگ تک بھی۔

آدمی انفرادی سطح پر اپنے خیال کے مطابق ایک دینی زندگی بناتا ہے۔ اس زندگی کو وہ اپنے حالات سے اس طرح مطابق کر لیتا ہے کہ وہ اس کو عافیت کا جزیرہ معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ دوسروں کی اصلاح کے لئے اٹھا تو اس کا بنا بنایا آشیانہ اجڑ جائے گا ۔ اس کی لگی بندھی زندگی بے ترتیب ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے وقت اور اس کے مال کا وہ نظام باقی نہ رہے گا جو اس نے اپنے ذاتی تقاضوں کے تحت بنا رکھا ہے۔ اس قسم کے اندیشے اس کے لئے دعوت واصلاح کی جدوجہد میں نکلنے اور اس کی راہ میں جان و مال پیش کرنے کے لئے رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جس عافیت کدہ کو اپنے لئے زندگی سمجھ رہا ہے وہ اس کا قبرستان ہے۔ اور جس قربانی میں اس کو اپنی موت نظر آتی ہے اسی میں اس کی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے ۔ دعوت واصلاح کا عمل، بشرطیکہ وہ آخرت کے لئے ہو نہ کہ دنیوی مقاصد کے لئے، انتہائی اہم عمل ہے۔ وہ آدمی کے مردہ دین کو زندہ دین بناتا ہے۔ وہ اعلیٰ ترین سطح پر انسان کو خدا سے جوڑتا ہے۔ وہ ان قیمتی دینی تجربات سے آدمی کو آشنا کرتا ہے جو انفرادی خول میں رہ کر کبھی حاصل نہیں ہوتے۔ خدا کی طرف سے اتنی اہم پکار کو سن کر جو لوگ اس کے بارے میں بے توجہ رہیں وہ یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ ان کے اور حق کے درمیان ایک نفسیاتی آڑ کھڑی ہو جائے ان کی یہ فطری صلاحیت ہمیشہ کے لئے کند ہو جائے گی وہ حق کی پکار کو سنیں اور اس کی طرف دوڑ کر اپنے رب کو پالیں ۔ انسان کی زندگی ایک سماجی زندگی ہے۔ کوئی شخص اس کے اندر اپنا انفرادی جزیرہ بنا کر نہیں رہ سکتا۔ اگر ایک شخص ذاتی دین داری پر قانع ہے تو وہ ہر وقت اس اندیشے میں ہے کہ اجتماعی بگاڑ کے نتیجہ میں کوئی عمومی آگ پھیلے اور وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آجائے۔ اصلاحی جدوجہد اصلاح کے ساتھ عبارت بھی ہے۔ اگر آدمی اپنی ہر بات پیش کرنے میں ناکام رہے تو خدا اس کے معاملہ کو کیوں دوسروں سے الگ کرے گا۔

کوئی برائی ہمیشہ چھوٹی سطح سے شروع ہوتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے بڑی بن جاتی ہے ۔ اگر ایسا ہو کہ برائی جب اپنی ابتدائی حالت میں ہو اسی وقت کچھ لوگ اس کے خلاف اٹھ جائیں تو وہ آسانی کے ساتھ اسے کچل دیں گے ۔ لیکن جب برائی پھیل چکی ہو تو اس کی جڑیں اتنی گہری ہو جاتی ہیں کہ پھر اس کو ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page