Al-Risala · September 1981 · page 23

Dead men tell no tales, but their ashes may

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳

تذکیر القرآن انفال ۸ اور یاد کرو جب کہ تم تھوڑے تھے اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے۔ رتے تھے کہ لوگ اچانک تم کو اچک نہ لیں۔ پھر اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور اپنی نصرت سے تمھاری تائید کی اور تم کو پاکیزہ رزق دی تاکہ تم شکر گزار بنو۔ اے ایمان والو، خیانت نہ کرو اللہ اور رسول کی اور خیانت نہ کرو اپنی امانخودں میں حالانکہ تم جانتے ہو۔ اور جان لو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔ اور یہ کہ اللہ ہی کے پاس ہے بڑا اجر ۔ ۲۸ - ۲۶ مکہ میں مسلمان بالکل بے بسی کی حالت میں تھے۔ ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا کب ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ وہ ایسے کمزور کی مانند تھے جس کو ہر طرح دبایا جاتا ہے اور اس کے جائز حقوق بھی اس کو نہیں دئے جاتے، بالآخر ان کے لئے مدینہ کا راستہ کھلا، ان کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ مدینہ جاکر اپنا مرکز بنائیں اور وہاں کے ماحول میں آزادی اور عزت کے ساتھ رہیں۔

مشکل کے بعد آسانی فراہم کرنے کا یہ معاملہ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے۔ آدمی کے حالات جب اس حد پر پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے، اس وقت اچانک خدا کی مدد ظاہر ہو کر حالات کو بدل دیتی ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے تاکہ آدمی یقین کرے کہ جو کچھ ہوا وہ خدا کی طرف سے ہوا۔ اس احساس کی بنا پر وہ خدا کے انعامات کے جذبہ سے سرشار ہو جائے۔

آدمی خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ اس طرح وہ عہد کرتا ہے کہ وہ خدا اور رسول کے راستہ پر چلے گا۔ مگر جب ایمانی طریقہ کو اختیار کرنے میں اس کے مال واولاد کے تقاضے حائل ہوتے ہیں تو وہ ایمان کے تقاضے کو چھوڑ کر مال واولاد کے تقاضے کو پکڑ لیتا ہے۔ یہ ایمانی عہد کے ساتھ کھلی غداری ہے۔ اس غداری کی شناعت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ آدمی جس چیز کی خاطر خدا کے ساتھ غداری کا معاملہ کر رہا ہے وہ بھی تو خدا کا ایک عطیہ ہے۔

آدمی کا مال اور اس کی اولاد کیا ہے ، وہ خدا ہی کا دیا ہوا تو ہے، وہ بندہ کے پاس خدا کی امانت ہے۔ اس امانت کا اگر کوئی سب سے بہتر مصرف ہو سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ جب دینے والا اس کو مانگے تو اس کو خوشی اس کے حوالے کر دیا جائے۔ مگر جب خدا کہتا ہے کہ میرے دین کے لئے اٹھو اور اس میں اپنی قوتیں لگاؤ تو آدمی اسی امانت کو اپنے لئے عذر بنا لیتا ہے جس کو خدا کے دین کی راہ میں دے کر اسے خدا سے کئے ہوئے عہدِ ایمان کو پورا کرنا تھا۔ وہ کامیابی کے کنارے پہنچ کر اپنے کو ناکاموں کی فہرست میں لکھوا لیتا ہے۔

کوئی فعل خدا کے یہاں جرم اس وقت بنتا ہے جب کہ یہ جانتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے کہ وہ غلط ہے۔ کسی شخص پر اگر اس کے ایک کام کی غلطی واضح ہو جاتی ہے اور اس کے بعد بھی وہ اس کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ بہت بڑی ذمہ داری اپنے سرلے رہا ہے۔ کیونکہ غلطی کو غلطی جاننے کے بعد اس کو دہرانا ڈھٹائی ہے اور ڈ ڈھٹائی خدا کے یہاں قابل معافی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page