Al-Risala · January 1981 · page 42

قناعت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۴۲

مبتلا رہتا ہے جو اس کے سکون کو غارت کرتے رہتے ہیں۔ آدمی کے اندر اگر قناعت کا مزاج آجائے تو اس کو خود بخود اس قسم کی پیشگی اندیشوں سے نجات مل جائے گی ۔ جب آدمی کا حال یہ ہو کہ اس کو جو مل جائے اسی پر وہ راضی رہے تو اندیشوں کی بنیاد پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ قناعت کا ہر شخص کو یہ پیغام ہے ــــ۔ دنیوی نقصان کا غم نہ کرو۔ اگر وہ ہو چکا ہے تو وہ ایک ہونے والی بات تھی ہو ہوئی۔ اور اگر وہ صرف ایک اندیشہ ہے تو بہت سے اندیشے ایسے ہیں کہ آدمی ان کے لئے اپنے آپ کو پریشان کرتا ہے حالاں کہ وہ کبھی واقع نہیں ہوتے۔ قناعت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو دنیا کے مسائل میں غیر ضروری طور پر الجھنے سے بچاتی ہے اور اس طرح اس کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی قوت کو زیادہ سے زیادہ آخرت کے کاموں میں لگا سکے ۔ آخرت کے مسافر کے لئے قناعت اتنی ہی ضروری ہے جتنا دنیا کے مسافر کے لئے حرص ۔ جس آدمی کے اندر حرص نہ ہو وہ متاع دنیا کا مالک نہیں بن سکتا۔ اسی طرح جس کے اندر قناعت نہ ہو وہ متاع آخرت کو پانے سے محروم رہے گا۔

قناعت کی اسی اہمیت کی بنا پر دین میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا، جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے اس کو جو کچھ دیا اس پر اس نے قناعت کیا قد ا فلح من اسلم و رزق کفافاً وقنعہ اللہ بما آتا ہ ، اخرجہ مسلم والترمذی)

انسان کی خواہشیں لا محدود ہیں اور دنیا کی چیزیں محدود۔ آدمی دنیا کی چیزیں خواہ کتنی ہی زیادہ حاصل کرلے وہ اس کی تسکین کے لئے ہمیشہ ناکافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ پانے والا بھی اس دنیا میں اتناہی پریشان رہتا ہے جتنا کم پانے والا۔ اس لئے اس دنیا میں اگر کوئی چیز آدمی کی تسکین کا ذریعہ بن سکتی ہے تو وہ قناعت ہے۔ کیونکہ قناعت تو ہر حد پر مطمئن ہو جاتی ہے جب کہ حرص کسی حد پر مطمئن نہیں ہوتی ۔ قناعت دراصل حقیقت پسندی کا دوسرا نام ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں مختلف وجوہ سے ہماری مرضی کے خلاف واقعات پیش آتے ہیں۔ کہیں دوسرے کو زیادہ مل جاتا ہے اور ہم کو کم۔ کہیں خود اپنی حاصل شدہ چیز کو پوری طرح استعمال کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کہیں ایسا ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ پاتے ہیں وہ اس سے بہت کم ہوتا ہے جو ہم اپنے اندازہ کے مطابق اپنے لئے چاہتے تھے۔ کہیں کوئی ناگہانی حادثہ پیش آکر ہمارے بنے بنائے معاملہ کو بگاڑ دیتا ہے۔ ایسے تمام مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ نقصان کے بعد نقصان کے غم سے اپنے کو بچایا جائے ۔ اور قناعت آدمی کی زندگی میں یہی اہم خدمت انجام دیتی ہے۔ قناعت آدمی کو بے صبری سے بچاتی ہے۔ وہ تلخ یادوں کو بھلاتی ہے ۔ وہ زندگی کی ناخوش گواریوں کو خوش گوار بنا دیتی ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page