Al-Risala · January 1981 · page 43

ارتقاءءءءءءءء سائنس نہیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳

ارتقاءءءءءءءء سائنس نہیں

ارتقا (Evolution) کا نظریہ ایک حیاتیاتی سائنس سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ زمین پر جو مختلف قسم کے جان دار پھیلے ہوئے ہیں وہ کس طرح وجود میں آئے اور کس طرح اپنے آپ بڑھتے بڑھتے موجودہ حالت تک پہنچ گئے۔ ان کے نزدیک یہ سب کچھ ایک خود کار طبیعی عمل کے تحت ہوا ہے نہ کہ کسی خالق کے ارادہ کے تحت۔ ارتقا کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا یہ نظریہ ایک سائنسی حقیقت (Scientific Fact) ہے۔ یعنی وہ اسی طرح قطعی دلائل سے ثابت ہو گیا ہے جس طرح طبیعی سائنس کی دوسری حقیقتیں ثابت ہوئی ہیں۔ مگر دلائل کے انبار، کا جائزہ لینے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ایک دعویٰ ہے جس کے حق میں کوئی واقعی دلیل موجود نہیں۔

سائنس جو ہے پر بحث کرتی ہے اور نظریہ ارتقاء جو ہوا ، پر سائنس حال کا علم ہے اور ارتقاء گزرے ہوئے ماضی کا علم۔ یہی فرق ارتقا کو سائنس سے جدا کر دیتا ہے۔ سائنس اپنے محدود موضوع کی بنا پر اس پوزیشن میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے دعوے کا عملی مشاہدہ کرا سکے۔ سائنس میں جب کسی چیز کو ثابت شدہ مانا جاتا ہے تو اس کا بنیادی عنصر یہ ہوتا ہے کہ اس کو دہرایا جا سکتا ہے اور اس کے نتائج کا ہر وقت مشاہدہ کیا جا سکتا ہے : The key element of scientific proof is that you can repeat something and observe the results ارتقا کے حامی ایسا نہیں کر سکتے۔ وہ نہ اپنے مفروضہ کو دہرا سکتے ہیں اور نہ اس کا مشاہدہ کرا سکتے ہیں۔ اس لئے ان کا یہ کہنا محض مغالطہ ہے کہ ارتقا ایک سائنسی حقیقت ہے۔

ارتقا کا نظریہ یہ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی زندہ چیزیں ہیں سب کی سب ایک ہی زندہ چیز سے نکلی ہیں اور یہ ابتدائی زندہ چیز خود ایک غیر زندہ مادہ سے نکلی تھی:

Evolution is the idea that all the living forms in the world have arisen from a single source which itself came from an inorganic form G. Kerkut, Implications of Evolutions, P. 157 اس طرح ارتقا کا اصول دو مفروضوں پر قائم ہے۔ اول یہ کہ زندگی (Life) بے زندگی (Nonlife) سے پیدا ہوئی۔ دوسرے یہ کہ پہلی بار زندگی پیدا ہو کر بڑھتی اور پھیلتی رہی، یہاں تک کہ اسی سے زندگی کی وہ تمام قسمیں وجود میں آگئیں جن کو آج ہم زمین پر دیکھتے ہیں۔ مگر ان دونوں مفروضوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کو آج دہرایا جا سکتا ہو۔ نہ بے زندگی سے زندگی کا نکلنا کہیں دکھایا جا سکتا ہے اور نہ ایک نوع سے بہت سی نوعوں کا وجود میں آنا۔ اس لئے یہ تمام تر ایک ذہنی قیاس ہے نہ کہ کوئی مشاہداتی واقعہ، جیسا کہ سائنسی مسلمات کے معاملہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page