تذکیر القرآن | الانفال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۱
اور جب شیطان نے انہیں ان کے اعمال خوش نما بنا کر دکھائے اور ا کہ لوگوں میں سے آج کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مگر جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو وہ الٹے پاؤں بھاگا اور کہا کہ میں تم سے بری ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ جب منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔ ۳۹-۴۸ مکہ کے مخالفین اپنے آپ کو برحق اور پیغمبر کے ساتھیوں کو برسر باطل سمجھتے تھے۔ اس پر ان کو اتنا یقین تھا کہ انھوں نے کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دعا کی کہ خدایا، دونوں فریقوں میں سے جو فریق حق پر ہو تو اس کو کامیاب کر اور جو فریق باطل پر ہو تو اس کو ہلاک کر دے، تاہم ان کا یہ یقین جھوٹا یقین تھا۔ اس قسم کا یقین ہمیشہ شیطان کی تزئین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
شیطان نے مکہ کے لوگوں کو سکھایا کہ تم تاریخ کے مسلمہ پیغمبروں (ابراہیم، اسماعیل) کے ماننے والے ہو جب کہ مسلمان ایک ایسے شخص کو مانتے ہیں جس کا پیغمبر ہونا ابھی ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ تم کعبہ کے وارث ہو جب کہ مسلمانوں کو کعبہ کی سرزمین سے نکال دیا گیا ہے۔ تم اسلاف کی روایتوں کو قائم رکھنے کے لئے لڑ رہے ہو جب کہ مسلمان اسلاف کی روایتوں کو توڑنے کے لئے اٹھے ہیں۔ شیطان نے مکہ والوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات ڈال کر ان کو جھوٹے یقین میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں بالکل درست کر رہے ہیں اور خدا کی مدد بہر حال میں حاصل ہوگی۔
مکہ کے مخالفین ایک طرف اپنے جھوٹے یقین کو اس قسم کی چیزوں کی بنا پر سچا یقین سمجھ رہے تھے۔ دوسری طرف جب وہ دیکھتے کہ پیغمبر کے ساتھی ان سے بھی زیادہ یقین اور سر فروشی کے جذبے کے ساتھ اسلام کے محاذ پر اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہیں تو وہ ان کے سچے یقین کو یہ کہہ کر بے اعتبار ثابت کرتے تھے کہ یہ محض ایک مذہبی جنون ہے۔ وہ ایک شخص (پیغمبر) کی خوبصورت باتوں سے جوش میں آکر دیوانے ہو رہے ہیں۔ ان کے یقین اور قربانی کی اس سے زیادہ اور کوئی حقیقت نہیں۔
مگر جب دونوں گروہوں میں مقابلہ ہوا اور مسلمانوں کے لئے اللہ کی مدد اتری تو شیطان مخالفین اسلام کو چھوڑ کر بھاگا۔ ایک طرف خدا کی مدد سے مسلمانوں کے دل اور زیادہ قوی ہو گئے کہ دوسری طرف مخالفین کا جھوٹا یقین بے ولی اور پست ہمتی میں تبدیل ہو گیا ۔ کیونکہ ان کا اعتماد شیطان پر تھا اور شیطان اب ان کو چھوڑ کر بھاگ چکا تھا۔
جو لوگ اللہ پر بھروسہ کریں اللہ ضرور ان کی مدد کرتا ہے۔ مگر اللہ کی مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ اہل ایمان اللہ پر یقین کا اتنا بڑا ثبوت دے دیں کہ بے یقین لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ مجنون ہو گئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues