Al-Risala · September 1981 · page 30

تذکیر القرآن | الانفال

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

اے ایمان والو! جب کسی گروہ سے تمہار ا مقابلہ ہو تو تم ثابت قدم رہو، اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تمھارے اندر کمزوری آ جائے گی اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اور ان لوگوں کے سے نہ بنو جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔ حالاں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ ۴۵ - ۴۷ کامیابی خدا کی مدد سے آتی ہے۔ مگر خدا کی مدد ہمیشہ اسباب کے پروہ میں آتی ہے نہ کہ بے اسبابی کے حالات میں۔ مسلمان اگر اپنے ممکن اسباب کو جمع کردیں تو بقیہ کی خدا کی طرف سے پوری کر کے انھیں کامیاب کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ بے اسبابی کا مظاہرہ کریں تو خدا کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ بے اسبابی کے نقشہ میں ان کے لئے اپنی مدد بھیج دے۔

اسباب کیا ہیں۔ اسباب یہ ہیں کہ مسلمان اقدام میں پہل نہ کریں۔ وہ اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے میں لگے رہیں تا آنکہ حریف خود چڑھائی کر کے ان سے لڑنے کے لئے آ جائے پھر جب ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جائے تو وہ اس کے مقابلہ میں پوری طرح جہاد کا ثبوت دیں۔ اللہ کی یاد، بالفاظ دیگر، مقصود اصلی کا مکمل استحضار رکھیں تاکہ ان کا قلبی حوصلہ باقی رہے۔ سردار کے حکم کے تحت پوری طرح منظم رہیں۔ باہمی اختلافات کو نظر انداز کریں نہ یہ کہ اختلافات کو بڑھا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ وہ اپنے اتحاد سے حریف کو مرعوب کر دیں۔ وہ صبر کریں، یعنی جوش کے بجائے ہوش کو اپنائیں۔ جلد کامیابی کے شوق میں غیر پختہ اقدام نہ کریں۔ ان کی نظر ہمیشہ آخری منزل پر ہو نہ کہ وقتی مصالح اور منافع پر۔ انہی چیزوں کا نام اسباب ہے اور انھیں اسباب کے پردہ میں خدا کی مدد آتی ہے۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا "غیب" میں رہ کر اپنے تمام تصرفات انجام دیتا ہے، اسی لئے جب وہ مسلمانوں کی مدد کرتا ہے تو اسباب کے پردہ میں کرتا ہے۔ مسلمان اگر اسباب کا ماحول پیدا نہ کریں وہ بے حوصلگی کا ثبوت دیں، وہ ابتدائی تیاری کے بغیر اقدامات کرنے لگیں۔ وہ اختلاف و انتشار میں مبتلا ہوں، تو ان کو کبھی یہ امید نہ کرنی چاہئے کہ خدا غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آ جائے گا اور بے اسبابی کا شکار ہونے کے باوجود مادرایے اسباب طریقوں سے ان کی مدد کر کے ان کے تمام کام بنا دے گا۔ مسلمان اگر اپنے حریف کے مقابلہ میں اپنے کو بہتر حالات میں پائیں تب بھی ایسا نہیں ہوتا چاہئے کہ وہ کافروں کی طرح اپنی طاقت پر گھمنڈ کریں، دہ فخر و نمائش کے جذبات میں مبتلا ہو جائیں۔ وہ بڑائی کے زُعْم میں اس حد تک آگے بڑھ جائیں کہ ایک شخص کے صرف اس لئے مخالف بن جائیں کہ وہ ایسے حق کی دعوت دے رہا ہے جس کی زد خود ان کی اپنی ذات پر بھی پڑ رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page