معتدل زندگی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۵
فراغت کے ساتھ پوری ہورہی ہیں ــــــــ ایک بھائی نے بیک وقت پورے پہاڑ کو قبضہ میں لینا چاہا ، وہ ناکام ہوگیا ۔ دوسرا بھائی ذرہ ذرہ کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھا ، وہ کامیاب رہا ۔
اسماعیل میرٹھی اردو کے مشہور شاعر اور ادیب گزرے ہیں ۔ ان کا ایک شعر ہے :
یوں ہی پھولوں پھولوں بھرے جھیل تال یوں ہی کوڑی کوڑی ہوا جمع مال یہ شعر ایک ایسی حقیقت بیان کر رہا ہے جو زندگی کے تمام معاملات میں صد فی صد درست ہے ۔ گنگا یا اور کوئی بڑا دریا میدانی علاقہ میں سمندر کا ایک پھیلا ہوا منظر ہوتا ہے ۔ لیکن اگر آپ اس کو اس پہاڑی مقام پر دیکھیں ، جہاں سے وہ شروع ہوتا ہے تو آپ پائیں گے کہ میدان کا عظیم دریا پہاڑ کا معمولی چشمہ ہے ۔ یہاں سی برفانی بلندی پر آپ کو بالکل دوسرا منظر دکھائی دے گا ۔ پہاڑ کی چوٹیوں پر پانی کی چھوٹی چھوٹی بے شمار دھاریں بہہ بہہ کر نیچے ایک مقام پر آکر ملتی ہیں ۔ یہاں ان کے ملنے سے دریا بنتا ہے ۔ یہ دھاریں الگ الگ بس پانی کی سوت سی ہوتی ہیں ۔ مگر ان کے یک جا ہونے سے ایک بڑا دھارا بہتا ہے جو آگے میدانی علاقہ میں پہنچ کر دریا کہلاتا ہے ۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ پہاڑ کی چوٹی سے پہلے ہی قدم پر ایک گنگا بہادے تو ایسا گنگا کبھی وجود میں نہ آئے گا ۔ گنگا پانی کی بہت سی چھوٹی چھوٹی سوتوں سے مل کر بنتا ہے نہ کہ اچانک پانی کا سمندر بہہ پڑنے سے ۔
معتدل زندگی
جاپان میں ایک شخص ہے جس کا نام ہے شیگی چیو ایزومی ۔ وہ دنیا کا سب سے زیادہ عمر آدمی سمجھا جاتا ہے ۔ اس کی پیدائش ۲۹ جون ۱۸۶۵ میں ہوئی تھی ۔ اتنی زیادہ عمر کے باوجود ابھی تک اس کی جسمانی حالت بہت اچھی ہے ۔ وہ جنوبی جاپان کے ایک جزیرہ ٹوکو نوشیما میں ایک نارمل آدمی کی طرح رہتا ہے ۔ غیر معمولی طور پر لمبی عمر کے باوجود تندرست ہونے کی وجہ سے اس نے بہت شہرت پائی ہے ۔ وہ جاپان میں آنے والے سیاحوں کی فہرست کا ضروری جزو بن گیا ہے ۔ چنانچہ ہر روز تقریباً ۲۰۰ سیاح اس کو دیکھنے کے لئے اس جاپانی جزیرہ میں پہنچتے ہیں ۔ اس سے ملنے والے عام طور پر ایک سوال ضرور کرتے ہیں : ” آپ کے نزدیک زندگی گزارنے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ “ ایزومی کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ :
Live an ordinary life and don't go to extremes
معمولی زندگی گزارو اور کسی معاملہ میں انتہا پسندی تک نہ جاؤ ( ہندوستان ٹائمس ۸ جولائی ۱۹۸۱) یہ بظاہر سیدھی سادی بات بہت قیمتی بات ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی اگر کھانے ، کپڑے ، مکان اور دوسری ضروریات زندگی میں سادہ اور معمولی طریقہ کو اپنا لے تو وہ کہیں زیادہ سکھھی اور تندرست رہے اور بہت کی الجھنوں اور دشواریوں سے اپنے آپ بچ جائے ۔ زیادہ تر مسئلہ غیر ضروری تکلفات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور ان سے بچنے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ ہے کہ اس قسم کے غیر ضروری تکلفات کو اپنی زندگی میں شامل ہی نہ کیا جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues