Al-Risala · September 1981 · page 36

Live an ordinary life and don't go to extremes

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۶

آپ کسی کبھی مقام پر دونوں قسم کی مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک شخص وہ ہے جس پر ہر وقت یہ احساس چھایا رہتا ہے کہ اس کی پوزیشن خراب نہ ہو۔ وہ اپنے اس مزاج کی وجہ سے مہمانوں کی تواضع میں بے حد تکلف کرتا ہے۔ گھر کو سجانے میں اپنی بساط سے زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے۔ گھر سے باہر نکلنا ہو تو کافی وقت اس کو اپنے بنانے سنوارنے میں لگانا پڑتا ہے۔ تعلقات اور بات چیت میں خواہ مخواه تصنع برتتا ہے۔ کوئی سفر کرنا پڑے تو ہر قسم کے لوازم کی فراہمی میں اتنا زیادہ سامان اپنے ساتھ لاد لیتا ہے کہ اس کا سفر غیر ضروری طور پر ایک مصیبت بن جائے۔ ایسا آدمی بھی خوش نہیں ہوگا اور نہ اس کی صحت اچھی رہے گی۔

دوسری فریق وہ شخص ہے جو ضرورت دیکھتا ہے نہ پوزیشن۔ جب کوئی شخص اس کے یہاں آتا ہے تو گھر میں جو کچھ موجود ہوتا ہے وہ بے تکلف اسے کھلا دیتا ہے۔ مکان کے معاملے میں وہ صرف صفائی کو ضروری سمجھتا ہے نہ کہ سجاوٹ اور تزئین کو۔ اس کو گھر سے باہر نکلنا ہو تو اسی حال میں باہر چلا جاتا ہے جیسے کہ وہ گھر کے اندر تھا۔ اس کا سفر اتنا ہلکا پھلکا ہوتا ہے کہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کب گیا تھا اور کب واپس آگیا۔ ایسا آدمی ہمیشہ خوش رہے گا۔ اس کی صحت بھی اچھی ہوگی۔ اس کے دماغ پر کسی قسم کا تناؤ نہیں ہوگا۔ وہ دن کو نشاط کے ساتھ کام کرے گا اور رات کو چین کی نیند سوئے گا۔

اسی طرح یہ ایک واقعہ ہے کہ انتہا پسندی اکثر حالات میں آدمی کے لئے مشکلات کا باعث ہوتی ہے۔ مثلاً لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے مختلف اسباب سے ایک شخص کا دوسرے سے ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے۔ ایسے مواقع پر لوگ عام طور پر انتہا پسندانہ طریقوں کی طرف جھک جاتے ہیں۔ وہ اعتدال اور توسط کا طریقہ اختیار نہیں کرتے بلکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا پسند کرتے ہیں۔ مگر یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ کیونکہ ایک طرف کی انتہا پسندی دوسرے فریق کے اندر جوابی انتہا پسندی پیدا کرتی ہے اور مسئلہ ختم ہونے کے بجائے اور زیادہ الجھتا چلا جاتا ہے۔ ایک مسئلہ کی جگہ کئی مسئلے پیدا ہو جاتے ہیں۔

یہ دوسری مثال بھی ہر جگہ دیکھی جاسکتی ہے۔ جو لوگ اپنے خلاف باتوں کا شدید اثر لیتے ہیں، جو دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنے میں ہمیشہ آخری انتہا پر چلے جاتے ہیں، جن کی دوستی بھی حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور دشمنی بھی حد سے بڑھی ہوئی، ایسے لوگ کبھی پرسکون زندگی کے مالک نہیں بن سکتے۔ اس کے برعکس جو لوگ خلاف مزاج باتوں کو نظر انداز کریں، جو دوسروں کے بارے میں ہمیشہ اعتدال کے ساتھ رائے قائم کریں، جو دوستی میں بھی درمیانی راہ اختیار کریں اور دشمنی میں بھی درمیانی راہ ۔ ایسے لوگ ہمیشہ چین کے ساتھ رہیں گے ۔ ان کا دن بھی سکون کے ساتھ گزرے گا اور رات بھی ۔ یہی وہ زندگی ہے جس کے متعلق ویلنگٹن نے کہا ہے ۔ موت کے بعد جنت میں رہنے کے لئے موت سے قبل بھی جنت میں رہنا ہوگا۔

نوٹ : یہ تقریر ۲ اگست ۱۹۸۱ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page