Al-Risala · September 1981 · page 39

موت کو یاد کرو

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۹

موت کو یاد کرو

کچھوا پانچ سو سال تک زندہ رہتا ہے ۔ درخت ایک ہزار سال تک زمین پر کھڑا رہتا ہے ۔ پہاڑ اور دریا کروڑوں سال تک اپنی شان کو باقی رکھتے ہیں ۔ مگر انسان کی عمر پچاس سال یا سو سال سے زیادہ نہیں ۔ انسان جو بظاہر تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اشرف اور افضل ہے وہ سب سے کم زندگی پاتا ہے ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ مختصر زندگی بھی ناکامیوں کی ایک مسلسل داستان کے سوا اور کچھ نہیں ۔ آدمی کی زندگی غم اور دکھ سے اتنا زیادہ بھری ہوئی ہے کہ خوشی کے لمحات غفلت کی چند جھلکیوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے ۔ بیماری ، حادثہ ، بڑھاپا ، امیدوں کی مسلسل پامالی کا نام زندگی ہے اور بالآخر اس قسم کے درد ناک ایام گزارتے ہوئے ایک دن موت کے آگے شکست کھا جانا ۔

ایک غریب کو یہ حسرت ہوتی ہے کہ اس کے پاس بڑا مکان نہیں ۔ اس کے پاس ضروریات زندگی کے لئے کافی پیسے نہیں ۔ مگر دوسری طرف ان لوگوں کا حال بھی بہت زیادہ مختلف نہیں جن کو ایک غریب آدمی رشک کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ دولت مند آدمی کے لئے پیسہ ہونا اس سے زیادہ بڑے مسائل پیدا کرتا ہے جو غریب کو پیسہ نہ ہونے کی صورت میں نظر آتے ہیں ۔ ایک مشہور آدمی جس کے گرد انسانوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہو اندر سے اس قدر بے چین ہوتا ہے کہ رات کو گولی کھائے بغیر اسے نیند نہیں آتی ۔ غرض اس دنیا میں ہر آدمی دکھی ہے ، کوئی ایک صورت میں اور کوئی دوسری صورت میں ۔

بالفرض کوئی شخص نا موافق حالات سے بچ جائے اور اس خوش قسمتی کو حاصل کرلے جس کو سکھ اور چین کہتے ہیں تب بھی کتنے دن تک ۔ اگر کوئی شخص اتفاقی اسباب کے تحت خوشیوں کا خزانہ اپنے گرد جمع کرلے تو وہ بھی بس صبح سے شام تک کے لئے ہوگا ، اس کے بعد اچانک موت کا بے رحم فرشتہ آئے گا اور اس کو اس طرح پکڑلے گا کہ نہ اس کی دولت اس کو بچا سکے گی اور نہ اس کی فوج ۔ ہوائی جہاز کے مسافر پر بھی موت اسی طرح قابو پا لیتی ہے جس طرح ایک پیدل چلنے والے آدمی پر ۔ وہ عالی شان محلوں میں بھی اسی طرح فاتحانہ داخل ہو جاتی ہے جس طرح ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں ۔ موت آدمی کی سب سے بڑی مجبوری ہے ۔

موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ وہ آج سے اوپر اٹھ کر سوچے ۔ وہ کامیابی کو زندگی کے اُس پار تلاش کرے ۔ کامیاب وہ ہے جو موت سے یہ سبق لے لے ۔ جو شخص یہ سبق لینے سے محروم رہے اس کی خوشیوں کے چراغ بہت جلد بجھ جائیں گے ۔ وہ اپنے کو ایک ایسے بھیانک اندھیرے میں پائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک ٹھوکریں کھاتا رہے اور کبھی اس سے نکل نہ سکے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page