Al-Risala · September 1981 · page 40

اس وقت کیا ہو گا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۰

اس وقت کیا ہو گا

بخای نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ مجھے قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناؤ (اقرار علی ) میں نے کہا، اے خدا کے رسول میں آپ کو قرآن سناؤں اور وہ آپ کے اوپر اترا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں ، مجھے پسند ہے کہ میں قرآن کو اپنے سوا دوسرے سے سنوں۔ میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی۔ یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا : فكيف اذا جئنا من كل امة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا (پھر کیا ہو گا جب ہم ہر قوم سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان لوگوں پر تم کو گواہ بنا کر لائیں گے) آپ نے فرمایا، بس کرو۔ میں نے دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے (فاذا عينا ہ تذرفان)

وہ وقت کیسا عجیب ہو گا جب خدا کی عدالت قائم ہو گی ۔ کسی کے لئے ڈھٹائی اور انکار کا موقع نہ ہوگا۔ وہی شخص جس کو دنیا میں لوگوں نے بے قیمت سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا اسی کو خدا کی طرف سے اس خاص بندہ کی حیثیت سے سامنے لایا جائے گا جس کو خدا نے اپنی طرف سے لوگوں کو آنے والے دن سے باخبر کرنے کے لئے چنا تھا۔ جس کو لوگوں نے اپنے درمیان سب سے کمزور آدمی سمجھ لیا تھا وہی اس وقت خدا کے حکم سے وہ شخص ہو گا جس کی گواہی پر لوگوں کے لئے جنت اور جہنم کا فیصلہ کیا جائے ۔ ان لوگوں کا اس وقت کیا حال ہو گا جو دنیا میں بہت بولنے والے تھے مگر وہاں اپنے آپ کو گونگا پائیں گے ۔ جو دنیا میں عزت اور طاقت والے سمجھے جاتے تھے وہاں اپنے آپ کو بالکل بے زور دیکھنے پر مجبور ہوں گے ۔ جب ان کا ظاہری پردہ اتارا جائے گا اور لوگ دیکھیں گے کہ دین کا لبادہ پہننے والے دین سے بالکل خالی تھے ۔ جب کتنی سفید ریاں کالی نظر آئیں گی اور کتنی رونقیں اتنی قبیح ہو جائیں گی کہ لوگ اس کی طرف نظر کرنے سے بھی گھبرائیں گے۔

موجودہ دنیا میں لوگ مصنوعی غلافوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ کسی کے لئے خوبصورت الفاظ اس کی اندرونی حالت کا پردہ بنے ہوئے ہیں اور کسی کے لئے اس کی مادی رونقیں ۔ مگر آخرت میں لوگوں کے الفاظ بھی ان سے چھن جائیں گے اور ان کی مادی رونقیں بھی ۔ اس وقت ہر آدمی اپنی اصلی صورت میں سامنے آجائے گا ر کیسا سخت ہو گا وہ دن ۔ اگر آج لوگوں کو اس کا اندازہ ہو جائے تو ان کے الفاظ کی شدت ختم ہو جائے ، کسی چیز میں ان کے لئے لذت باقی نہ رہے۔ دنیا کی عزت بھی ان کو اتنی ہی بے معنی معلوم ہو جتنا دنیا کی بے عزتی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page